تسنیم نورانی اور ڈاکٹر امجد ثاقب کی سازش

میرے قارئین جانتے ہیں کہ میں مدتوں سے ’’احمقوں‘‘ کو اس طرف متوجہ کرنے کیلئے قلمی ٹکریں مار رہا ہوں کہ پاکستان کے اصل مسائل ہیں ’’کوالٹی پرائمری ایجوکیشن‘‘ اور ’’پاپولیشن مینجمنٹ‘‘۔ باقی بےتحاشہ خوفناک ترین مسائل ان دو کے درمیان ہیں۔ ’’پرائمری ایجوکیشن‘‘ اس لیے کہ یہ کسی بھی معاشرہ کی بنیاد ہوتی ہے کہ یہی کسی بھی ملک کا ’’خام مال‘‘ بھی ہوتا ہے۔ لکڑی ہی گھٹیا اور دیمک زدہ ہو گی تو دنیا کا بڑے سے بڑا ترکھان بھی کون سی توپ چلائے گا؟ یہ معصوم بچے ہی چند سال بعد ملکوں قوموں کے معمار بنتے ہیں لیکن کوئی ڈھیٹ نہیں جانتا کہ ہم لوگ کیسا ’’خام مال‘‘ تیار کر رہے ہیں۔ مہنگے اسکولوں کے فارغ التحصیل بچوں کی اکثریت تو یہاں رہے گی ہی نہیں۔ باقی رہ گئے ’’اصلی پاکستانی بچے‘‘ تو ان کی تعلیم کا لیول اور تربیت دونوں ہی شرمناک بلکہ عبرت ناک ہیں۔ یہ بچے تو دور کی بات کبھی ان کے ’’ٹیچرز‘‘ سے ہی مل کر دیکھو تو تمہارے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے … باقی تمہاری مرضی یا بھاڑ کی۔

اب چلتے ہیں ٹوٹے چھتر کی طرح بےتحاشہ بڑھتی آبادی کی طرف تو کیا اب اپنے خون سے لکھوں کہ یہ تعداد نہیں استعداد، مسل نہیں عقل کا دور ہے اور مومن کی ایک اہم ترین پہچان یہ ہے کہ وہ جس زمانے، عہد، دور میں زندہ ہوتا ہے اس کی ضرورتوں کو بخوبی سمجھتا ہے اور ہم سب کو ہر معاملہ میں ’’اعتدال‘‘ اور ’’میانہ روی‘‘ کا بھی حکم ہے یہاں تک عبادت اور کھانے میں بھی اعتدال اور میانہ روی کا حکم ہے۔ ’’مومن کی فراست‘‘ کا بھی یہی تقاضا ہے کہ اپنی آبادی کو اپنے وسائل کے کینڈے میں رکھیں ورنہ ہمارے کروڑوں بچے سکولوں سے باہر یونہی ذلیل ہوں گے۔ بھوک ننگ عفریت بن کر اکثر گھروں پر قبضہ کرلے گی۔ نوجوان بچے فضول قسم کے ایم اے، بی اے کرکے ہنروں سے عاری بیروزگاری کا شکار ہوں گے، بھکاری بنیں گے، مجرم یا فراڈیے، خوشامدیے، چاپلوسیے، سیاسی جماعتوں کی فرنسوں کے ایندھن، چمچے، کڑچھے، قصیدہ گو، چوروں، ٹھگوں کیلئے جلسوں میں تالیاں بجانے، دریاں صفیں بچھانے اور ناچنے والے قیمے کے نان ہوں گے لیکن پاکستان کے لیے؟؟؟ یہ تمہارے پیارے اقبال کے شاہین نہیں، مردار خور گدھ ہوں گے اور اگر کوئی ’’شاہین‘‘ نکل بھی آیا تو کہیں اور پرواز کر جائے گا کہ مومن میرٹ کی طرف لپکتا ہے کیونکہ اسی کو ’’ہجرت‘‘ کہتے ہیں تو پلیز! کوالٹی پرائمری ایجوکیشن پر فوکس فرمائو۔

آج کا پاکستان یہی نقشہ پیش کر رہا ہے تو کیا ہمارے لیے لازم نہیں کہ آج سے صرف دس پندرہ سال بعد کا تصور کریں جب

’’میرے محبوب قیامت ہو گی

آج رسوا تری گلیوں میں محبت ہو گی‘‘

میں وہ بدنصیب ہوں جس نے زندگی کالموں اور کئی کالم تمہیدوں میں ہی ضائع کر دیئے لیکن خیر ہے کیونکہ اپنا تو سرسید احمد خان اور اقبال کچھ نہ بگاڑ سکے۔ کہنا ہے تو صرف اتنا کہ سابق سیکرٹری داخلہ کبھی PTIکے ’’حصہ دار‘‘ تسنیم نورانی نے مسیحائوں جیسے ڈاکٹر امجد ثاقب کے ساتھ مل کر اس ملک کے اصل نظام اور دو نمبر احمق اشرافیہ کے خلاف نہ صرف ایک ’’بھیانک سازش‘‘ تیار کی بلکہ اس سازش پر عملدرآمد بھی شروع کر دیا ہے۔ میں اس نظام کا ’’مخبر‘‘ ہونے کے سبب اس کی اشرافیہ کو وارننگ دے رہا ہوں کہ اگر ’’اخوت‘‘ والے ڈاکٹر امجد ثاقب اور تسنیم نورانی کی یہ سازش کامیاب ہو گئی تو چند عشروں کے اندر اندر تمہارا ککھ کنڈا بھی نہ بچے گا اس لیے ہو سکے تو ابھی سے “NIP THE EVIL IN THE BUD”پر عمل کرو اس ’’بدی‘‘ کو ابھی سے کچل دو ورنہ بہت پچھتائو گے۔

میں اس معزز مافیا کو ڈاکٹر امجد ثاقب اور تسنیم نورانی کی اس ’’وطن دشمنی‘‘ کا خاکہ پیش کر رہا ہوں۔ ’’دی نورانی فائونڈیشن‘‘ نے ’’اخوت‘‘ جیسے مثالی ادارے کے ساتھ مل کر ایک ایسے تعلیمی ادارہ کا آغاز کر دیا ہے جو تحصیل لیول تک پھیل گئے تو اعلیٰ بنیادی تعلیم سے آراستہ نسل ایک ڈیڑھ عشروں میں ملک کی سمت تبدیل کر سکتی ہے، اخلاقیات کا گرتا معیار سنبھل سکتا ہے کیونکہ ان رہائشی تعلیمی اداروں میں اعلیٰ دنیاوی اور دینی تعلیم کو یقینی بنایا گیا ہے۔ فیصل آباد کے علاقہ نورہ میں ’’اخوت ‘‘ نے TNFکو 6ایکڑ زمین دی اور اس کے ٹرسٹیوں اور ہمدردوں نے 15کروڑ روپے اکٹھے کرکے صرف 15مہینوں میں ایک کم قیمت رہائشی سکول قائم کر دیا جس میں اکتوبر 2021ء سے 160شاہینوں کی اعلیٰ ترین ذہنی، جسمانی، روحانی تربیت کا آغاز ہو چکا ہے اور ان شاء اللہ 2022ء تک طالب علموں کی تعداد 320تک پہنچ جائے گی۔ سو فیصد اساتذہ اور طلبا سکول میں رہتے ہیں جو وقفوں کے ساتھ صبح 5-30سے رات 9-30تک تعلیم و تربیت میں مصروف ہوتے ہیں یہ وہ کم وسیلہ بچے ہیں جن سے برائے نام فیس لی جاتی ہے کہ عزتِ نفس مجروح نہ ہونے پائے، باقی صاحبانِ استطاعت و بصیرت کی ڈونیشنز جن میں ہم بھی شامل ہو سکتے ہیں۔

اگر اس لیول کے سکول ہر تحصیل میں ہوں اور ایک سکول 20کروڑ میں بنے تو کل صرف 130ارب کی ضرورت ہوگی جو ایک موٹر وے کی تقریباً آدھی لاگت ہو گی لیکن تعلیم …معیاری تعلیم ہماری ترجیحات میں ہی شامل نہیں اور اسی لیے ہم بھی دنیا کی ترجیحات میں شامل نہیں ….باقی سب کہانیاں ہیں یا ڈرائونی فلمیں!

اپنا تبصرہ بھیجیں