عید نامہ

جب میں اقبال ٹائون (لاہور) میں رہتا تھا تو عید کی نماز سے پہلے میں نے دو تین بہت موٹے نمازی تاکے ہوتے تھے۔ ان دنوں کچھ لوگ نماز کے بعد عید کم ملتے تھے اور ’’زورِ بازو‘‘زیادہ دکھاتے تھے۔ چنانچہ ان کی کوشش ہوتی تھی کہ ’’مخالف‘‘ کی ہڈی پسلی ایک کر دی جائے۔ اپنے دو تین دوستوں کے ساتھ عید ملنے کے بعد میں نے جو موٹے دوست تاکے ہوتے تھے ان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرتا اور اس کے سینے سے لگ جاتا، تہہ در تہہ گوشت سے ٹکور سی ہو جاتی، وہ گلے ملنے اور تین پھیروں کے بعد ’’رخصت‘‘ ہونا چاہتے، مگر میں ان کے گلےلگا رہتا، جب تک باڈی بلڈر دوستوں کے دیے ہوئے درد کا مداوا نہ ہو جاتا۔

دمِ تحریر عید کا تیسرا دن ہے۔ بازاروں میں وہ رونق نہیں جو چاند رات اور عید کے روز اور عید کے اگلے روز دیکھنے میں آتی تھی۔ میں عید کی نماز پڑھنے کے بعد بیٹے عمرکے ساتھ ماڈل ٹائون کے قبرستان گیا اور والد، والدہ کی قبروں پر فاتحہ پڑھی۔ ماڈل ٹائون کے قبرستان کے بے شمار مکین میرے جاننے والے ہیں۔پروفیسر کرامت حسین جعفری یہاں ہیں، ڈاکٹر باقر یہاں محو خواب ہیں۔ فیض احمد فیض، اشفاق احمد، بانو قدسیہ، سید ہاشمی فرید آبادی اور کتنے ہی نامور لوگ اس قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔ یہاں میرے دوست صوفی محمد عارف مرحوم کے پورے صوفی خاندان کی پکی قبریں دکھائی دیتی ہیں۔ آپ یقین جانیں میں جب اس قبرستان میں آتا ہوں تو جس قبر پر نظر پڑتی ہے میں ٹھٹک کر رہ جاتا ہوں، آپ بھی یہاں ہیں،آپ بھی یہاں ہیں کیونکہ میں نے ماڈل ٹائون میں زندگی کے 25 سال گزارے ہیں، یہاں میرے اسکول کے زمانے کے دوست بھی دفن ہیں اور میں شدید اداسی کے عالم میں یہاں سے رخصت ہوتا ہوں۔

آپ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ ہنسنے ہنسانے والا یہ شخص عین عید کے دنوں میں کیا قصہ لے کر بیٹھ گیا ہے، مجھے بھی پتہ ہے کیونکہ میں تو غمگین اندوہ پوری کے لّتے لیا کرتا ہوں، جسے سوگ کے ذکر کے سوا کوئی موضوع سوجھتا ہی نہیں۔ چلیں یہ باتیں غمگین اندوہ پوری کے لیے چھوڑتے ہیں اور آگے بڑھتے ہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ میں ان دنوں بہت اداس رہتا ہوں مگر عید کے یہ دن میرے لیے ڈھیر ساری خوشیاںبھی لائے، کچھ دوست مجھے ملنے آگئے اور کچھ کی طرف میں چلا گیا سب سے بڑھ یہ کہ کر میرا سارا خاندان عید کے روز میرے گھر پر مدعو تھا، بچوں کی چہکار نے میری ساری اداسی ختم کردی تاہم عید کا صحیح مزا ایک عزیز کے گھر عید کے دوسرے روز اس گیٹ ٹو گیدر میں شرکت کے دوران آیا جو یہ رسم برس ہا برس سے پوری باقاعدگی کے ساتھ نبھا رہا ہے۔ یہاں صف اول کے کالم نگار وجاہت مسعود اپنی بھرپور سنجیدگی ایک طرف رکھ کر رونق محفل بنے ہوئے تھے۔ نہایت اعلیٰ درجے کے شاعر، نثر نگار، تجزیہ نگار حماد غزنوی کی شگفتہ بیانی بھی عروج پر تھی اور گل نوخیز اختر کی کسی محفل میں موجودگی اس محفل کو ترو تازہ رکھنے کی گارنٹی سمجھی جاتی ہے اور یہ مزاح نگار یہاں بھی پھلجھڑیاں چھوڑنے میں لگا ہوا تھا۔ آپ لوگ اسے نہیں جانتے لیکن جو جانتے ہیں وہ اس شخص کے گوندل ہونے کے باوجود اس کے علم کی گہرائی پر حیران ہو جاتے ہیں۔ اس ’’خفیہ دانشور‘‘ کا نام شاہد گوندل ہے۔ حامد میر نے بھی آنا تھا مگر ان کی گاڑی خراب ہوگئی۔ قمر راٹھور اور اعجاز صاحب بھی رونقِ محفل تھے۔ اور کھانا؟ اللہ اکبر! مجھے انواع وا قسام کی ڈشز میز کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک ’’بنی سنوری‘‘ نظر آئیں تو علامہ شکم پرور لوریانوی بہت یاد آئے۔ موصوف اکثر مجھ سے پوچھتے رہتے ہیں کہ کہیں کوئی شادی تو نہیں، قل خوانی تو نہیں، چہلم تو نہیں، اور خبر ملتے ہی وہاں پہنچ جاتے ہیں، کئی دفعہ وہ شادی کی تقریب میں فاتحہ خوانی کے لیے ہاتھ اٹھا لیتے ہیں اور کبھی کسی سوگ پر مبارک بادیں دیتے نظر آتے ہیں۔ عید سے ایک روز پہلے انہوں نے مجھ سے ’’درخواست‘‘ کی تھی کہ اگر کہیں کوئی دعوت ہوتو انہیں ساتھ لیتا جائوں، میں نے انہیں آج کی ڈیٹ میں ایک دوست کے بارے میں بتایا کہ زبردست کھانا ہے، آپ وہاں پہنچ جائیں، میں بعد میں آئوں گا۔ اللہ خیر کرے، وہ دوست فوج میں کمانڈو ہے۔ میں آج ہسپتالوں میں فون کرکے پتہ کروں گا کہ علامہ صاحب کہاں ’’آرام‘‘ فرما رہے ہیں؟

پس نوشت: قارئین کو اگرچہ بتلانے کی ضرورت نہیں کہ یہ کالم زبردستی لکھا گیا ہے کیونکہ آج میرے کالم کی باری تھی اور موڈ بالکل نہیں تھا، مگر فرض شناسی بھی تو کوئی چیز ہے۔ براہِ کرم کہا سنا معاف کردیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں