اخلاقی’’نیوڈ بیچ‘‘!

ہم میں سے جو لوگ کرپٹ ہیں وہ ایماندار لوگوں کو دیکھتے ہیں اور ان کے مطمئن چہروں پر نظر ڈالتے ہیں تو ان کا ضمیر انہیں اندر سے کچوکے دیتا ہے لیکن گناہ کی زندگی بسر کرتے کرتے ایک وقت ایسا بھی آتا جاتا ہے کہ انسان ضمیر کے اثر سے نکل جاتا ہے بس اتنا ہے کہ اسے اس وقت ایک جھٹکا سا محسوس ہوتا ہے جب اس کے سامنے کوئی ایسا شخص آجائے جس کے پاس کرپشن کے وہ سارے ’’جواز‘‘ ہوں جنہیں بنیاد بنا کر کرپشن کی جاتی ہے لیکن اس کے باوجود وہ کرپشن نہ کرتا ہو چونکہ کوئی کرپٹ انسان کسی ایماندار شخص کو اپنے نقش قدم پر چلنے پر مجبور نہیں کر سکتا اس لئے وہ اسے بھی کرپٹ مشہور کرنے پر اکتفا کرتا ہے تاکہ معاشرے کے اس حمام میں ایماندار شخص بھی ننگا نظر آئے اور یوں اس اکیلے پر انگلی نہ اٹھائی جا سکے ۔شرابیوں کی محفل میں کسی غیر شرابی کی موجودگی شرابیوں کو بہت بری طرح کھٹکتی ہے بالکل ایسے جیسے یورپ کی نیوڈ بیچز پر اگر کوئی شخص لباس پہنے نظر آئے تو اسے بداخلاقی پر محمول کیا جاتا ہے، ہمارا معاشرہ ’’اخلاقی نیوڈ بیچ‘‘ میں تبدیل ہو چکا ہے چنانچہ ہمیں صاحب کردار لوگوں پر کڑی نظر رکھنا پڑتی ہے، اگر ان کی کوئی بات ہاتھ لگ جائے تو سبحان اللہ ورنہ منہ میں زبان تو ہے ہی، چنانچہ جو جی میں آئے اس کے بارے میں کہہ دیا جاتا ہے تاکہ اس شفاف آئینے کو بھی دھندلا یا جا سکے۔

آپ نے اور میں نے بھی کئی محفلوں میں اس طرح کی گفتگو بہت دفعہ سنی ہو گی۔ملک صاحب، بہت ایماندار انسان ہیں اتنے بڑے عہدے پر فائز ہیں مگر ان کے پاس سرکاری مکان اور سرکاری کار کے علاوہ کچھ نہیں ۔

’’غفور میرا یار ہے لہٰذا میرا منہ نہ ہی کھلوائیں تو بہتر ہے ‘‘

نہیں، آپ منہ کھولیں تاکہ حقائق کا تو پتہ چلے۔

اس کی ایک کوٹھی ڈیفنس میں ہے جو اس نے 5لاکھ ماہوار کرائے پر چڑھا رکھی ہے اس کے علاوہ بیس کلو سونا ہے جو لاکروں میں بند ہے اور اس کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے آپ میرا منہ نہ کھلوائیں ‘‘

بیس کلو سونا چونکہ لاکروں میں بند ہے اس لئے وہ تو انہوں نے صرف آپ کو دکھایا ہو گا اور یوں آپ ہمیں وہ تو نہیں دکھا سکتے لیکن کسی روز ڈیفنس والی کوٹھی تو دکھائیں ‘‘

گویا آپ چاہتے ہیں کہ میں آپ اپنے یار کی مخبری کروں! میں ایسا نہیں کروں گا ۔

مخبری تو آپ نے اپنے یار کی کر دی ہے آپ نے اب صرف ثبوت پیش کرنا ہے !’’تو گویا آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ میں جھوٹ بول رہا ہوں !میں جا رہا ہوں میں آپ جیسے بداعتماد لوگوں کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتا!

یہ ملک صاحب کوئی انتہائی خوش قسمت انسان ہوں گے جنہیں اپنے دفاع کے لئے کوئی ایک شخص محفل میں مل گیا ورنہ ہمارے ہاں الزام ہی کو ثبوت سمجھا جاتا ہے اور اگلے روز پورے شہر میں وہ الزامات بطور حقائق گشت کر رہے ہوتے ہیں ! اسی طرح جب کسی شہر پہ کسی ظالم شخص کی حکومت قائم ہو جاتی ہے اور شہر کے معززین اس کے ہر ظلم پر اس کی ہاں میں ہاں ملانے لگتے ہیں تو ان معززین کے لئے وہ شخص ناقابل برداشت ہو جاتا ہے جو اس ظلم میں ان کا ساتھی بننے سے انکار کر دے اور اپنا سب کچھ دائو پہ لگا کر ظالم کے ظلم کے خلاف آواز اٹھائے۔ ظالم کے ساتھی جب بھی ایسے شخص سے ملتے ہیں اسے دیکھ کر احساسِ گناہ میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور پھر وہ اسے اپنے آپ ہی ایسا گنہگار ثابت کرنے میں لگ جاتے ہیں، ان کے اند ر اپنا ٹیڑھا پن صحیح کرنے کی خواہش وفات پا چکی ہوتی ہے چنانچہ وہ دوسروں کو بھی کبڑا دیکھنے کے خواہشمند ہوتے ہیں ۔میں نے دعا کی کہ یااللہ ان کا کبڑا پن دور کر دے اور یہ وہ دعا ہے جو میں بیسیوں مرتبہ مانگ چکا ہوں مگر کبھی اس کا جواب موصول نہیں ہوا۔صرف ایک مرتبہ جواب آیا لیکن جواب دینے والا کوئی اور تھا اس کی آواز میں منمناہٹ تھی اور الفاظ خوشامد میں لتھڑے ہوئے تھے ۔آواز آئی ’’آپ عطاالحق قاسمی ہیں‘‘ میں نے جواب دیا ’’جی آپ صحیح فرماتے ہیں ‘‘ اس آواز نے کہا ’’توبہ استغفراللہ آپ مجھے کیوں گنہگار کرتے ہیں میں آپ کے سامنے کیا فرما سکتا ہوں ۔فرماتے تو آپ جیسے عظیم لوگ ہیں ہم تو عرض کرنے و الوں میں سے ہیں ‘‘ میں نے کہا ’’چلیں ایسے ہی سہی، آپ عرض کریں کیا عرض کرنا چاہتے ہیں ؟‘‘کہا’’ ہمارے نیٹ ورک نے مخبری کی ہے کہ آپ بار بار اللہ تعالیٰ سے ہمارے حوالے سے کوئی گزارش کرتے ہیں بس اسی حوالے سے کچھ عرض کرنا تھا‘‘میں نے جواب دیا ’’تو بتائیں آپ کیا کہنا چاہتے ہیں !‘‘آواز آئی ’’بس یہی کہ آپ ہمارا کبڑا پن ختم کرنے کی دعائیں براہ کرم نہ کیا کریں اس سے ہمیں تکلیف پہنچتی ہے ‘‘ میں نے پوچھا وہ کیسے؟آواز آئی ’’ وہ ایسے کہ ہم اور کچھ نہیں کر سکتے صرف وہی کر سکتے ہیں جو کر رہے ہیں، ہمارا کبڑا پن ختم کرنے کی کوشش میں ہمارا کڑاکا نکل سکتا ہے اور یوں ہم کسی بھی کام کے نہیں رہیں گے‘‘ !اس پر مجھے ہنسی تو آئی مگر میں نے عرض کیا یہ کیسے ممکن ہے ۔کبڑا پن دور کرنے والا ہاتھ آپ کا کڑاکا نہیں نکالے گا بلکہ آپ کو سیدھا کر دے گا اور یوں آپ معاشرے کو صحتمند بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ میری اس بات کے ساتھ ہی آواز کی منمناہٹ اور خوشامدی لہجے کی جگہ کڑوے پن نے لے لی بلکہ آواز سے پہلے مجھے دانتوں کی کچکچاہٹ بھی سنائی دی اور پھر یہ آواز آئی ’’اب سمجھ آئی تم کون ہو! اور پھر اس کے بعد چاروں طرف سے گالیوں کا شور سنائی دیا‘‘ میں نے اپنے دونوں کانوں میں اپنی انگلیاں ٹھونس لیں!

اپنا تبصرہ بھیجیں