دعائے خیر، منگنی، شادی اور طلاق

سہیل وڑائچ صاحب کی تحریر باکمال اور ان کی صحافت اپنی مثال آپ ہے۔ لکھتے وقت ان کی نقالی کرنا اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔

میں آج ان کی نقالی کی کوشش کررہا ہوں، اس لیے دعا کریں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ سہیل وڑائچ کی نقالی بھی نہ کرسکوں اور اپنا اندازِ تحریر بھی بھول جائوں۔

میری آج کی کہانی کے بنیادی طور پر چار کردار ہیں۔ ایک مقتدر خان، دوسرا انصاف بی بی، تیسرا پیپل بی بی اور چوتھا لیگی بی بی۔ پیپلز بی بی کے بڑوں کے تعلقات روز اول سے مقتدر خان سے اچھے نہیں رہے۔

مقتدرخان اور پیپل بی بی کی کچھ عرصے تک شادی برقرار رہی لیکن وہ نکاح بالجبر کی ایک قسم تھی۔ نہ مقتدر خان خوش تھا اور نہ پیپل بی بی مطمئن تھی۔ چنانچہ ستر کی دہائی کے آخر میں نہ صرف نکاح ٹوٹ گیا بلکہ نوبت قتل و غارت تک جا پہنچی، اس لیے مقتدر خان نے لیگی بی بی کو پہلے پالا پوسا اور پھر اسی کی دہائی میں اس کے ساتھ نکاح کر لیا۔

وقت کے ساتھ ساتھ لیگی بی بی گھر بسانے اور چلانے کے توقابل ہوگئی لیکن جوں جوں گھر چلانے کا سلیقہ سیکھتی گئی توں توں مقتدر خان کی تابع فرمانی کے دائرے سے بھی باہر نکلتی گئی۔ مقتدر خان کو اس کے رویے پر غصہ آیا اور اس نے اُسے طلاق دے کر گھر سے باہر نکال دیا۔

کچھ عرصے تک مقتدر خان قافی بی بی کے ساتھ غیرشرعی تعلقات سے کام چلاتا رہا لیکن ظاہر ہے کہ وہ گھر چلانے کے قابل ہی نہ تھی۔ چنانچہ مقتدر خان کو ایک بار پھر پیپل بی بی سے جبری نکاح کرنا پڑا۔ یہ شادی ویسے تو پانچ سال چلتی رہی لیکن تعلقات ایک دن کے لیے بھی خوشگوار نہ رہے۔

اب کی بار مقتدر خان نے سوچا کہ بچپن سے کسی لڑکی کو اپنی نگرانی میں بڑا کرکے نکاح اور گھر چلانے کے قابل بنایا جائے۔

چنانچہ ایسے عالم میں جب پیپل بی بی نکاح میں تھی اور لیگی بی بی اس کے نکاح کے ٹوٹنے اور دوبارہ مقتدر خان کے نکاح میں جانے کی منتظر تھی، مقتدر خان، اپنے کارندے پاشا خان کے ذریعے انصاف بی بی کی نوک پلک سنوارنے اور اسے شادی کے قابل بنانے کے مشن میں مصروف ہوگیا لیکن لیگی بی بی کو چونکہ سابقہ تجربہ تھا۔

اس لیے ایک بار پھر وہ انصاف بی بی کو پیچھے چھوڑ کر مقتدر خان کے گھر گھسنے میں کامیاب ہوگئی تاہم مقتدر خان نے اسے دلی طور پر قبول کیا اور نہ لیگی بی بی نے مقتدر خان کو۔

چند ماہ بعد مقتدر خان لیگی بی بی سے جان چھڑانے اور انصاف بی بی کے ساتھ گھر بسانے کی سازشوں اور کوششوں میں مصروف ہوگیا۔ دو تین بار کوششیں کیں لیکن لیگی بی بی گھر سے نکلنے کو تیار نہ ہوئی۔

بالآخر پانچ سال بعد مقتدر خان لیگی بی بی کو طلاق دینے اور اپنی لاڈلی، چہیتی اور تربیت یافتہ انصاف بی بی کے ساتھ گھر بسانے میں کامیاب ہوگیا۔ تاہم انصاف بی بی کو گھر لانے اور نکاح میں لینے کے لیے مقتدر خان کو بہت سےغیر شرعی کام بھی کرنے پڑے۔

لیگی بی بی کو ایسے انتقام کانشانہ بنایا گیا کہ وہ انصاف بی بی کے مقابلے کے قابل ہی نہ رہی۔ 2018میں نکاح کی تقریب بھی نہایت غیرشرعی طریقے سے کی گئی اور نکاح خواں کے بھی ہاتھ مروڑے گئے۔ انصاف بی بی خوبصورت تھی، باصلاحیت، باوفا اور نہ گھر چلانے کےقابل لیکن میڈیا کو استعمال کرکے اسے خوبصورت، وفادار اور گھر چلانے کے قابل ثابت کیا گیا۔

گائوں کے قاضی سے صادق اور امین کے سرٹیفکیٹ بھی دلوائے گئے۔ انصاف بی بی اتنی چالاک تھی کہ اس نے مقتدر خان ہی نہیں بلکہ پورے گائوں اور باراتیوں تک کو یقین دلادیا تھا کہ اس سے زیادہ باصلاحیت، دیانتدار اور وفادار کوئی ہے ہی نہیں۔

اس نے تاثر دیا کہ اس نے نہ صرف گھر بسانے کی پوری تیاری کی ہے بلکہ یہ وعدہ بھی کیا کہ گھر کی معیشت کو بھی وہ چار چاند لگا دے گی۔چنانچہ بڑی دھوم دھام سے شادی ہوئی۔ انصاف بی بی کے ساتھ نکاح پر مقتدر خان کی خوشی دیدنی تھی اوروہ ’’وتعزمن تشاء و تذل من تشاء‘‘ کا ورد کرنے لگا لیکن’’ اے بسا آرزو کہ خاک شدہ‘‘۔

چند ہی دنوں میں پتہ چلا کہ انصاف بی بی تو گھر چلانے کی الف ب سے بھی واقف نہیں۔معلوم ہوا کہ وہ تو کھانا پکاسکتی ہے اور نہ اہلِ خانہ کی خدمت کرسکتی ہے۔ اوپر سے وہ بڑی بدتمیز نکلی اور گالم گلوچ کے سوا کوئی دوسرا فن جانتی ہی نہیں۔

دن رات کبھی مقتدر خان کی سابقہ بیویوں سے پنگے لیتی ہے، کبھی نکاح خواں سے اور کبھی عزیز و اقارب سے۔

گھر کی معیشت بہتر کرنے کی بجائے اس نے تباہ کرکے رکھ دی۔ وہ روز مقتدر خان کے لیے کوئی نہ کوئی مسئلہ کھڑا کرتی ہے۔ پڑوسیوں سے بھی مقتدر خان کے تعلقات خراب کرادیے، اس کے قریبی دوستوں سے بھی اور گائوں کے چوہدریوں سے بھی۔

اسی پر ہی اکتفا نہ کیا بلکہ آخر میں مقتدر خان کو آنکھیں دکھانے لگی۔ اس نے مختصر عرصے میں مقتدر خان کو اتنا بدنام کر دیا جتنا سابقہ بیویاں دو عشروں میں بدنام نہیں کرسکی تھیں۔ چنانچہ مقتدر خان سرپکڑ کر بیٹھ گیا ۔ انصاف بی بی نے کئی مرتبہ ایسی حرکتیں کیں جو مقتدر خان کے مزاج کے مطابق طلاق کے قابل تھیں لیکن طلاق اس لیے نہیں دے سکتا تھاکہ گھر خالی رہ جاتا اور پھر اسے خود سنبھالناپڑتا۔

چنانچہ تنگ آکر مقتدر خان ماضی کی پیپل بی بی اور لیگی بی بی سے درپردہ رجوع کرنے لگا۔ پیپل بی بی بڑی تابعدار ہے۔ ماضی کو مکمل طور پر بھلا چکی ہے۔ اس کے ساتھ دعائے خیر بھی ہوچکی ہے اور خفیہ منگنی بھی لیکن مقتدر خان نکاح سے اس لیے گریز کررہا ہے کہ اسے احساس ہے کہ پیپل بی بی کی اب وہ حیثیت نہیں رہی کہ تنہا گھر چلاسکے۔

چنانچہ لیگی بی بی سے بھی اس طریقے سے رابطے ہورہے ہیں کہ انصاف بی بی کو پتہ نہ چل سکے۔ مقتدر خان کو ڈرہے کہ اگر لیگی بی بی کے ساتھ معاملات طے ہونے سے قبل انصاف بی بی کو علم ہوگیا تو وہ طلاق سے قبل خلع کی کوشش کرکے مقتدر خان کورسوا کرسکتی ہے۔

مقتدر خان کو ایک تو لیگی بی بی کی دشمنی مہنگی پڑرہی ہے اور دوسرا اس کو یہ احساس بھی ہوگیا ہے کہ اس کے گھر کو نسبتاً لیگی بی بی ہی بہتر چلاسکتی ہے لیکن پیپلز بی بی کی نسبت لیگی بی بی کی نکاح کی شرائط اب کی بار پہلے کی نسبت زیادہ سخت ہیں۔

بہر حال لیگی بی بی کے ساتھ دعائے خیر ہوچکی ہے لیکن معاملہ ابھی منگنی تک نہیں پہنچا۔ واقفان حال بتاتے ہیں کہ اگر لیگی بی بی کے ساتھ بھی پیپل بی بی کی طرح معاملہ آگے بڑھا اور دعائے خیر سے آگے بڑھ کرمنگنی ہوگئی تو پھر انصاف بی بی کو طلاق دینے میں دیر نہیں کی جائے گی لیکن لیگی بی بی کے ساتھ اگر معاملہ دعائے خیر پر ہی اٹکا رہا یا پھر ماضی کی طرح دوبارہ تلخی پیدا ہوگئی تو پھر مجبوراً انصاف بی بی کے ساتھ ہی وقت گزارا کیاجا ئے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں