بھارتی عوام کو سلام اور شکریہ

آدمی شیطان بھی ہوسکتا ہے حیوان بھی لیکن انسان نہ شیطان ہوسکتا ہے نہ حیوان اور یہ بالکل یوں ہی ہے جیسے ذہانت ابلیسی100فیصد EVILبھی ہوسکتی ہے لیکن دانش انسان دوست ہوتی ہے۔ آدمی سے شروع ہو کر انسان کے مقام تک پہنچنا ہی تو اصل امتحان اور بڑا چیلنج ہے۔

سماجوں میں ہوتا یہ ہے کہ چند سفاک، خود غرض، حرص و ہوس، لالچ اور اقتدار کے مارے ہوئے جذبات فروشی، انتہا پسندی، انسان دشمنی اور جہالت کے پرچارک بن جاتے ہیں اور انہیں انہی جیسے SUB MEN اور MANIMALS بھی میسر آ جاتے ہیں۔

جہالت اور ذلالت ان کازیور بھی ہوتے ہیں اور ہتھیار بھی اور پھر یہ ہتھیار ے بن کر اپنی قوم، قبیلے، ملک کے لئے ذلت ورسوائی کا باعث بن جاتے ہیں۔ ہٹلر اور مسولینی جیسی بے شمار مثالوں کے حوالوں سے تاریخ بھری پڑی ہے۔ یہ عام لوگوں کو گمراہ کرتے ہوئے نیم پاگل اور پھر پاگل تک بنا دیتے ہیں ورنہ عام انسان ہوتا ہی بنیادی طور پر معصوم ہے۔ ’’مودی سرکار‘‘ بھارت کابھیانک چہرہ ہے، اصل چہرہ ہرگز نہیں۔

یہ آج ہے کل نہیں ہوگا۔ ان کا ’’مرکزی خیال‘‘ ہی اتنا مکروہ اور قابل نفرت ہے کہ اس عہد میں اس کی گنجائش ہی نہیں۔ بھارت دنیا کی بہت بڑی منڈی ضرور ہے لیکن ’’دنیا‘‘ نہیں۔ برسراقتدار پارٹی ٹوٹے ہوئے چھتر کی طرح بڑھتی جا رہی ہے۔

احمقوں اور جنونیوں نے مسلمانوں کے بعد عیسائیوں، سکھوں اور دیگر اقلیتوں کے ساتھ بھی کھلواڑ شروع کردیا تو آج نہیں تو کل بھنگی، چرسی، شرابی عالمی ضمیر کو بیدار ہونا ہی پڑے گا۔

ہمارے حکمرانوں کو بھی چاہیے کہ بھارتی مسلمانوں ہی نہیں، عیسائیوں سکھوں پر ہونے والے مظالم کو ’’یکجا‘‘ کرکے اسے ایک ’’ہیومن ٹریجڈی‘‘ کے طور پر ہائی لائٹ کریں۔ مجھے اب تک کئی لوگ یہ طعنہ دے چکے ہیں کہ میرے اندر بھارتیوں کے لئے ایک ’’سافٹ کارنر‘‘ ہے تو میں انہیں کہتا ہوں کہ ’’بالکل ہے اور کیوں نہ ہو؟‘‘

مودی سرکارپوری بھارتی آبادی کی نہ کبھی نمائندہ تھی، نہ ہے، نہ کبھی ہوسکتی ہے، کیونکہ وہاں بھاری اکثریت معصوم، مظلوم، بھوکے ننگے، محبت کرنے والے لوگوں کی ہے۔ میں جب بھی بھارت گیا، مجھے محبت، اپنائیت، قربت کا احساس ہوا جسے میں بھول جائوں تو مجھ سے بڑا احسان فراموش کوئی نہ ہوگا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ایک ’’سیاسی اقلیت‘‘ وہاں کی مسلمان، عیسائی اور سکھ اقلیتوں کے لئے عذاب بنی ہوئی ہے لیکن کب تک؟ ’’گیتا‘‘جیسی ہوشربا کتاب پڑھنے والے اتنے سفاک اور بے رحم ہو ہی نہیں سکتے۔ مٹھی بھر لوگوں نے پورا ملک یرغمال بنایا ہوا ہے جس کی انہیں قیمت چکانا ہوگی کہ تاریخ میں نہ کبھی ایسا ہوا نہ ہوگا . . . .خصوصاً اس ’’ڈیجیٹل دور‘‘ میں۔

قارئین!

معاف کیجئے کہ تمہید کچھ طویل ہوگئی حالانکہ میں اختصار پسند آدمی ہوں لیکن اوپر نیچے دو خبریں مقامی اخبارات میں پڑھیں کہ بھارتی عوام و خواص کے لئے پیار، محبت، احترام، اسلام و احترام و شکریہ مجھے انتہائی لازمی محسوس ہوا کہ ایسا نہ کرتا تو میرےدل پر بڑھتا ہوا بوجھ میرے ضمیر کو جھنجھوڑتا رہتا کہ یہ وہی بھارت ہے جس نے اپنی کھوکھ سے کروڑ ہا مسلمانوں کو بھی جنم دیا ورنہ کبھی غور کریں یہاں عربوں، سنٹرل ایشینز، ایرانیوں اور قدیم افغانیوں کی اولادیں کتنی ہیں؟؟؟ باقی کون ہیں؟؟؟

سیکڑوں ذاتیں گنوا سکتا ہوں اور اسی لئے کہتا ہوں کہ ہم سب ایک درخت کی شاخیںہیں، کسی شاخ کا منہ مغرب، کسی کا مشرق کی طرف ہے۔ سگے بھائی بھی فرقہ، مسلک، مذہب بدل لیں تو ’’ولدیتیں‘‘ تبدیل نہیں ہوتیں جس کا سب سے بڑا، اہم، خوشگوار انسانی ثبوت یہ ہے کہ . . . .

بھارت کی سپریم کورٹ کے 76 نامور، محترم، سرکردہ وکلا نے اپنے چیف جسٹس رمنا صاحب کو ایک تفصیلی خط لکھا ہے جس میں سپریم کورٹ سے دہلی اور ریاست اترکھنڈ کے شہر ’’ہریدوار‘‘ میں انتہا پسند جنونی ہندوئوں کی دو مذہبی تقریبات میں مسلمانوں کی نسل کشی کے لئے عوام کو اکسانے کا ازخود نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے یہ کہا ہے کہ ’’مذکورہ مذہبی تقریبات میں تقریریں فقط نفرت انگیز نہیں بلکہ پوری کمیونٹی کے قتلِ عام کی کھلی دعوت کے مترادف ہیں اور پولیس کارروائی نہ ہونے کی وجہ سے ایسے واقعات کو روکنے کے لئے فوری عدالتی کارروائی کی ضرورت ہے۔ ایسی تقاریر لاکھوں مسلمان شہریوں کی زندگیوں کو خطرات سے دوچار کر رہی ہیں‘‘۔

یاد رہے کہ اس خط پر دستخط کرنے والی عظیم بھارتی شخصیات کی بھاری اکثریت ٹاپ کے ان بھارتی وکلا پر مشتمل ہے جو ہندو ہیں جن میں دشنیت دیو، پرشانت بھوشن، ورندا گروور اور پٹنہ ہائی کورٹ کی سابق جج انجنا پرکاش اور ایک مسلمان وکیل سلمان خورشید بھی شامل ہیں، تو یہ کیسے ممکن ہے کہ میں صرف ’’مودی مافیا‘‘ کو یاد رکھو ںاور انسانیت کے ان محسنوں کو بھول جائوں؟

قارئین!

اس خوبصورت خبر کے آگے پیچھے اک اور خوبصورت خبر نے انسانیت پر میرے غیر متزلزل یقین کو مزید طاقت عطا کی اور اس لازوال طاقت کا ’’اوریجن‘‘ میرے آقاؐ کا وہ سفر طائف ہے جس کے دوران اوباشوں نے آپؐ پر پتھر برسائے۔ فرشتوں نے کہا ’’ان کو پہاڑوں میں پیس دیں؟‘‘ ’’نہیں، شاید ان کی اولادوں میں سے کوئی پیغام توحید سمجھ لے‘‘ (مفہوم)

اس ’’ابنارمل‘‘ مودی سرکار کے منہ پر دوسرا زناٹے دارتھپڑ پانچ سابق چیفس آف سٹاف، دیگر فوجیوں اور سینئر بیورو کریٹس کی طرف سے رسید ہوا جس میں مودی سرکار کو خبردار کیا گیا کہ مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کی نسل کشی کی کالز بھارت کی تباہی کے مترادف ہوں گی۔بھارت اندرونی طور پر بدترین عدم استحکام کا شکار ہوگا جو بیرونی قوتوں کے لئے حوصلہ افزا سچوئشن ہوگی۔

باضمیر اور انتہائی اہم بھارتیوں کی طرف سے لکھے گئے اس خط میں عیسائیوں، دلتوں اور سکھوں سے ہونے والی زیادتیوں بلکہ مظالم کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ مذاہب سے ماورا ان تمام خوبصورت انسانوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ’’یہ رویہ داخلی سلامتی اور ہماری قوم کے سماجی تانے بانے کو بھی تباہ وبرباد کرسکتا ہے‘‘۔

قارئین!

مودی نہیں . . . . . یہی حقیقی بھارتی چہرہ ہے جس میں ’’آدمی‘‘ کم اور ’’انسان‘‘ زیادہ ہیں کہ انہی کی پہچان مسلمان ہونے کی ایک اہم نشانی ہے۔

آخر پر جسٹس مرکنڈے کاٹجو صاحب کا بھی شکریہ ، جو دلیری اور دانائی کی انسان دوست علامت ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں