بڑھکیں بند، بنگلہ دیش ہی بن جاؤ

سیاسی بابوں، انتظامی بابوئوں، روحانی عاملوں، قلم بدست مفکرین سبھی بہت کچھ سوچتے، سمجھتے ہیں۔ سکینڈے نیوین ماڈل سے لے کر چائنا ماڈل تک، مہاتیر کے دیس سے لے کر سوئٹزر لینڈ ماڈل تک، سب ایک سے بڑھ کر ایک ہیں۔ ریاست مدینہ کی بات میں نے اس لئے نہیں کی کہ اول تو میں اس قابل نہیں، دوسرا یہ کہ ریاست مدینہ ’’شاہ مدینہ‘‘ کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ میری تو صرف اتنی سی خواہش ہے کہ ہم لوگ ،ممکن ہو تو اس ملک کے بارے میں بھی کبھی سوچ لیں جو کبھی ہمارا حصہ ہوا کرتا تھا اور اسے مشرقی پاکستان کہتے تھے، اب یہ بچھڑا ہوا بھائی بنگلہ دیش کہلاتا ہے اور ہم سے بہت آگے نکل چکا ہے۔ موجودہ پاکستان کی توندیں، مونچھیں اور پگڑیاں یعنی نام نہاد جاگیردار اشرافیہ کبھی ان کالے، پیلے، ٹھگنے چاول مچھلی خور بنگالیوں کا مذاق اڑایا کرتی تھی اور آج یہی بنگلہ دیش ہمیں لینتھوں سے پیچھے چھوڑ چکا ہے۔

اور تو اور آبادی کی بے تکی، بے سمت،بے تحاشا نان سٹاپ بڑھوتری کے حوالے سے بھی بنگلہ دیش ہمیں مات دے چکا جبکہ ایک زمانہ تھا جب انہیں یہ طعنہ بھی دیا جاتا تھا کہ بنگالیوں کو بچے جننے کے علاوہ اور کوئی کام ہی نہیں۔سقوط ڈھاکہ کے وقت اس کی آبادی ہم سے زیادہ تھی اور آج چشم بدور صورت حال ریورس ہو چکی۔بنگلہ دیش کی آبادی 1.2 فیصد جبکہ ہم 2.1 فیصد کے حساب سے بڑھ رہے ہیں۔ ’’اللہ کرے زور قلم اور زیادہ‘‘ اور ہم سا ہو تو سامنے آئے۔ آبادی میں اضافہ کی یہ شرح ہم سے تقریباً دوگنی ہے۔رہ گئی تقریباً نصف آبادی یعنی خواتین تو اس میدان میں بھی بنگلہ دیش ہم سے کہیں آگے اور بہتر ہے۔ یہاں غیرت کے نام پر قتال عام جبکہ بنگلہ دیشی عورتیں فعال سے فعال تر ہوتی جارہی ہیں۔ عورتوں کی آزادی کے حوالے سے 156 ملکوں میں بنگلہ دیش 50ویں نمبر پر ہے جبکہ ہم 153 ویں نمبر پر ہیں یعنی تقریباً نچلی ترین سطح پر۔ کمال یہ کہ ترک ڈراموں میں عورتوں کو مردوں کے شانہ بشانہ کھڑے دیکھ کر تالیاں بھی بجاتے ہیں۔ یہاں بے مثال لازوال شاعر منیر نیازی یاد آئے جو اپنے مخصوص مخمور انداز میں کہا کرتے تھے کہ ’’یہ عجیب ملک ہے جو ترقی بھی کرنا چاہتا ہے لیکن دوسری طرف آدھی آبادی یعنی عورتوں کو گھروں میں تاڑ کر باقی آدھی آبادی یعنی مرد ان کی حفاظت کے لئے لاٹھیاں لے کر گھروں کےباہر بیٹھے ہیں‘‘۔پھر ہم ترقی کرتے کرتے وہاں جا پہنچے جہاں عورتیں قبروں میں بھی محفوظ نہیں لیکن یہ ایک اور موضوع ہے۔ کام کرنے والی خواتین کی شرح بنگلہ دیش میں 38فیصد جبکہ پاکستان میں 23فیصد ہے حالانکہ آبادی ہماری کہیں زیادہ ہے، سو بھوک ننگ بھی زیادہ ہے لیکن ’’غیرت‘‘ بہت ہی زیادہ ہے چاہے آئی ایم ایف کے ڈور میٹ ہی کیوں نہ بن چکے ہوں۔

بھوک ننگ سے یاد آیا کہ مختلف بین الاقوامی ادارے مثلاً بینک، ورلڈ اکانومک فورم اور اکنامک انٹیلی جنس یونٹ وغیرہ بنگلہ دیش کی ترقی کو ’’ونڈر فل پزل‘‘ قرار دے چکے ہیں اور یاد رہے یہ وہی مہاتڑ سا بنگلہ دیش ہے جس کےقیام پر 1972 میں سیاسی جینئس امریکن ہنری کسنجر نے اسے “BOTTOM LESS BASKET” قرار دیا تھا۔ آج یہ بے پیندے کی باسکٹ پھلوں پھولوں سے بھری ہوئی ہے اور ہم کشکول اٹھائے آئی ایم ایف کے پھیرے لگا رہے ہیں۔ دنیا بنگلہ دیش کی ترقی پر کتابیں لکھ رہی ہے۔ “BANGLADESH, THE TEST CASE OF DEVELOPMENT” اور خلاصہ انہوں نے یہ پیش کیا کہ ’’اگر بنگلہ دیش ترقی کرسکتا ہے تو یہ جان لینا چاہیے کہ کوئی بھی ملک بہتر ی کی طرف جاسکتا ہے‘‘۔ … ہم کون ہیں؟ کیا ہیں؟ اور ہمارا تعلق کس کیٹگری سے ہے؟۔ ٹیلنٹ کی بھی کوئی کمی نہیں، عظیم ترین قیادتوں کا بھی قحط نہیں، سیاسی جماعتوں کا بھی سیلاب ہے، ہم زندہ قوم بھی ہیں، ہمارا نام بھی ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ ہے، سبز ہلالی پرچم بھی بہت خوب صورت ہے جس کے سائے تلے ہم ایک ہیں اور قومی ترانہ بھی ہم جیسا کسی کا نہیں۔

اک اور لطیفہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ یہاں مردوں کی حکومت رہی جبکہ بنگلہ دیش میں تقریباً دس سال سے ’’آدھی گواہی‘‘ یعنی عورت کی حکومت ہے جس نے ملک چلایا ہی نہیں، اس طرح اٹھایا کہ دنیا دنگ رہ گئی۔ ورلڈبینک کے ایک سابق مشیر عابد حسن درست کہتے کہ صرف 20 سال پہلے تک کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ بنگلہ دیش کی فی کس آمدنی دوگنی ہو جائے گی اور اگر بنگلہ دیشی ترقی کی موجودہ رفتار برقرار رہتی ہے تو یہ ملک 2030میں ’’اقتصادی پاور ہائوس‘‘ بن جائے گا اور اگر پاکستان کا حال یہی رہا تو ممکن ہے 2030 تک اسے بنگلہ دیش سے امداد مانگنی پڑے‘‘۔

پاکستان تو پاکستان بنگلہ دیش نے بہت سے انڈیکٹرز کی روشنی میں بھارت کو دھول چٹا دی ہے۔ 2011سے 2019تک بنگلہ دیش کی ایکسپورٹس میں بھی 8.6فیصد کے حساب سے اضافہ ہوا جبکہ دنیا میں یہ شرح 0.4 فیصد تھی۔ بنگلہ دیش کی اکانومی کا حجم 410بلین جبکہ پاکستان کی تقریباً 260بلین ہے۔

مندرجہ بالا ہلکی پھلکی معلومات اور بنیادی شماریات عرض کرنے کا اکلوتا مقصد صرف یہ ہے کہ ہماری سابقہ ، حالیہ، آئندہ قسم کی ڈھیٹ ترین سیاسی ایلیٹ بڑھکیں اور اس طرح کی دیگر بدبو دار چیزیں مارنا بند کرکے صرف ان اہداف پر فوکس کرے جو LOGICAL اور ACHIEVEABLE ہوں کیونکہ اچھے منیجرز کبھی اپنی ’’کمپنی‘‘ یا ورکرز کو UNACHIEVEBLEٹارگٹس نہیں دیتے کیونکہ یہ ایک انتہائی احمقانہ اور غیر ذمہ دارانہ حرکت ہے جو آخر کار شرمندگی، ندامت بلکہ ذلت پر ختم ہوتی ہے۔

جھے حکمرانوں کی شرمندگی، ندامت، ذلت سے ذرہ برابر دلچسپی نہیں۔ میرا مسئلہ یہ ہے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ پاکستان اور پاکستانی بدبو دار دلدل میں دھنستے جا رہے ہیں۔ خوابوں کے سوداگروں نے ہم وطنوں کو ٹکے ٹوکری کرکے رکھ دیا ہے اس لئے پلیز! پاکستان کو سکینڈے نیویا، سوئٹزر لینڈ، پیرس، ملائشیا وغیرہ بنانے کے بدہضمی والے خوابوں پر لعنت بھیج کر ’’مغربی پاکستان‘‘ کو ’’مشرقی پاکستان‘‘ بناتے ہوئے ’’بنگلہ دیش‘‘ ہی بنا دو جو کبھی ہمارا حصہ اور مشرقی پاکستان کہلاتا تھا۔

گلی گلی میں ہوا میری ہار کا اعلان

یہ کون جانے کہ میں تو بساط پر ہی نہ تھا

پاکستانی عوام تو لڑے بغیر ہی ہار رہے ہیں۔ ووٹ نہیں ووٹر کو عزت دو اور اسے بے قوف بنانا بند کرکے بنگلہ دیشی ہی بنا دو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں