مرشد کے قدموں میں!

اللہ جانے سائیں کوڈے شاہ پر میرا یہ کتنواں کالم ہے، میں کیا کروں اپنے مرشد کو یاد کرنے کا بہانہ ڈھونڈتا رہتا ہوں چنانچہ بہت دنوں سے ان کے تکیے پر حاضری نہیں دے سکا تھااور دل بجھا بجھا سا لگتا تھا۔ دل کو کچھ بے کلی سی محسوس ہو رہی تھی، سو میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا، سائیں جی کا خادم خاص ’’دوری‘‘ میں ’’سردائی‘‘ گھوٹ رہا تھا، اس نے مجھے دیکھا تو اپنے پیلے دانتوں کی نمائش سے میرا استقبال کیا۔ میں نے سائیں کے گھٹنوں کو چھوا اور ان کے قدموں میں بیٹھ گیا، خادم خاص نے ’’سردائی‘‘ کا بھرا ہوا ایک پیالہ سائیں اور ایک میرے سامنے رکھ دیا، اور پھر ذرا فاصلے پر جا کر بیٹھ گیا۔سائیں نے خادم خاص کو مخاطب کیا اور کہا ’’اوے بد بختا! مجھے اور کتنی سردائی پلائے گا، میں تو پہلے ہی کائنات کے آخری کنارے تک پہنچا ہوا ہوں‘‘ یہ سن کر میں چونکا چنانچہ میں نے سائیں کو مخاطب کیا اور پوچھا ’’سائیں جی، آپ نے بھی کائنات کا آخری سرا دریافت کر لیا، میں نے تو اخبار میں پڑھا تھا کہ اس حوالے سے دنیا بھر کے سائنس دان ابھی تک کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے‘‘۔ اس پر سائیں کوڈے شاہ کی بلغم میں کھنکھناتی ہنسی سنائی دی اور وہ بولے ’’جہاں سائنس صدیوں بعد پہنچتی ہے وہاں فقیر چشم زدن میں پہنچ جاتا ہے، میں یہاں تمہارے بیٹھے بیٹھے کسی بھی سیارے سے ہوکر آسکتا ہوں‘‘۔مجھے سائیں جی کی بے شمار کرامات ان کے خادم خاص نے سنائی تھیں مگر یہ سب میرے لیے ’’شنید‘‘ کی حیثیت رکھتی تھیں مجھے ’’دید‘‘ کی سعادت کبھی نصیب نہیں ہوئی تھی چنانچہ جب میں نے سائیں جی کی زبان سے یہ دعویٰ سنا تو میں بہت زیادہ ایکسائیٹڈ ہوگیا اور میں نے کہا ’’سائیں جی، خدا کے لیے آپ ابھی مریخ سے ہوکر آئیں اور واپسی پر میرے لیے وہاں سے کوئی سوونئیر ضرور لائیں‘‘۔ یہ سن کر سائیں کوڈے شاہ نے لال بھبھوکا آنکھوں سے کچھ اس طرح میری طرف دیکھا کہ مجھ پر لرزہ طاری ہوگیا، وہ اس وقت جلالی کیفیت میں تھے، انہوں نے شدید غصے کے عالم میں کہا ’’اے مورکھ تو سیدھی طرح یہ کیوں نہیں کہتا کہ تجھے میری بات پر اعتبار نہیں ہے اور تو دراصل میرے دورہ مریخ کا ثبوت چاہتا ہے۔ میں نے تیرے لیے مریخ سے کیا لے کر آنا ہے، تو چل میرے ساتھ، جو ہیرے موتی وہاں سے اٹھانا ہوں وہ اٹھا لانا‘‘۔

میں نے حیرت سے سائیں جی کی طرف دیکھا اور پوچھا ’’سائیں جی، کیا آپ واقعی مجھے مریخ کے دورے پر اپنے ساتھ لے جا رہے ہیں؟‘‘ بولے ’’ہاں، مگر پہلے یہ ’’سردائی‘‘ پی لے‘‘ میں پورا پیالہ غٹاغٹ چڑھا گیا۔ سائیں جی نے خادم خاص کو ایک اور درویشی مشروب مجھے دینے کے لیے کہا اور میں نے وہ بھی ہونٹوں کے ساتھ لگایا اور ایک ہی سانس میں پی گیا۔ مجھے سائیں جی کی آواز کہیں دور سے آتی سنائی دی۔ ’’اب اپنی آنکھیں بند کر ہم مریخ کی طرف روانہ ہونے والے ہیں‘‘۔ میں نے آنکھیں کیا بند کرنا تھیں، وہ تو پہلے ہی بند ہو چکی تھیں، کچھ دیر بعد سائیں جی کی آواز ایک بار پھر کانوں سے ٹکرائی ’’اے مورکھ اپنی آنکھیں کھول لے‘‘ میں ایک عجیب سرور کے عالم میں تھا، میں نے آنکھیں کھولنے کی کوشش کی مگر وہ بوجھل ہورہی تھیں، اس پر خادم خاص نے آگے بڑھ کر میری آنکھوں کے پپوٹے اوپر کو اٹھائے اور پانی کا ایک چھینٹا میرے منہ پر مارا۔ تو میں نے محسوس کیا کہ میری آنکھیں پوری طرح کھل چکی ہیں۔ سائیں جی نے پوچھا ’’کیسا لگا مریخ؟‘‘ میں نے کہا ’’سبحان اللہ، اگر آپ اجازت دیں اور اپنے خادم خاص کو اس خاص سردائی سے مجھے ہمیشہ اسی طرح مستفید کرنے کی ہدایت کریں تو میں چاہوں گا کہ روزانہ آپ کے قدموں میں بیٹھ کر آپ کی معیت میں مریخ اور دوسرے سیاروںکی سیرکے لیے جایا کروں، سائیں جی نے اثبات میں سر ہلایا!

میں اس وقت سائیں کوڈے شاہ کی خلوت خاص میں تھا۔ یہ ان کا مجھ پر خصوصی کرم تھا کہ وہ مجھے مریدوں کے ہجوم کے علاوہ اکیلے میں بھی اپنی دید کی اجازت مرحمت فرماتے تھے، اب دربار عام کا وقت تھا۔ چنانچہ ہر خاص و عام ان کی زیارت کے لیے چلا آ رہا تھا۔ سائیں جی کے مریدوں میں خواتین کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ چنانچہ وہ بھی جوق در جوق چلی آ رہی تھیں۔ یہاں آنے والے سب لوگ ان سے دعا کے طلب گار تھے۔ ایک بیروزگار نوجوان اپنی ملازمت کے لیے گڑ گڑا رہا تھا۔ ایک عورت اپنے بیمار بچے کو دم کرانے کے لیےلائی تھی۔ ایک بانجھ عورت کویقین تھا کہ سائیں جی کی دعا سے اس کی گود ہری ہو جائے گی۔ اس دوران باہر ایک لمبی قطار لگ چکی تھی اور یہ سب دعا کے لیے حاضر ہوئے تھے، ان میں سے تین چار لوگوں نے سائیں جی کے سامنے آتے ہی والہانہ انداز میں ان کے ہاتھ پائوں چومنا شروع کردیئے کیونکہ سائیں جی کی دعا سے ان کے دل کی مرادیں پوری ہو گئی تھیں، مجھے بہت حیرت ہوئی کہ واپس جاتے ہوئے وہ خادم خاص کو ہلکی سی آنکھ ضرور مارتے تھے مگر بہت سے لوگوں نے گڑگڑا کر کہا کہ سائیں جی، آپ ہم پہ نظر خاص فرمائیں کیونکہ ہم ابھی تک محروم ہیں۔ اس پر سائیں کوڈے شاہ انہیں گھور کر دیکھتے چنانچہ اس طرح کے لوگ الٹا شرمندہ ہو جاتے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اگر ان پر مرشد کی دعا اثر نہیں کررہی تو اس میں یقیناً ان کا اپنا کوئی قصور ہے۔سائیں جی کے پاس بہت دنوں سے ایک لڑکی آرہی تھی۔ اس نے سر پر سرخ رنگ کی اوڑھنی اوڑھی ہوتی اور اس کے ماہتاب چہرے کی کرنوں سے سارا تکیہ روشن ہو جاتا، دعا کے لیے اس لڑکی کی باری ہمیشہ سب سے آخر میں آتی، سب لوگ جا چکے تھے، تکیے پر صرف، میں، وہ لڑکی، خادم خاص اور سائیں رہ گئے تھے، مجمع چھٹتے ہی خادم خاص اٹھ کر باہر چلا گیا۔ سائیں جی نے میری طرف بھی دیکھا لیکن میں بیٹھا رہا، بلکہ سائیں جی کے پائوں بھی دابنا شروع کر دیئے، لڑکی نے ایک نظر مجھ پر ڈالی اور سائیں جی سے پوچھا ’’یہ کون ہے؟‘‘ انہوں نے مختصر سا جواب دیا ’’یہ ایک بے وقوف شخص ہے جو موقع محل کی نزاکت سے واقف نہیں ہے!‘‘ سائیں جی نے یہ کلمات پہلی دفعہ میرے بارے میں ارشاد فرمائے تھے میں نے ان کلمات کو اپنے لیے بابرکت جانا کیونکہ میرا ایمان ہے کہ سائیں جی کی زبان سے جو لفظ بھی نکلیں وہ ان کے عقیدت مندوں کے لیے سرمایہ حیات ہوتے ہیں چنانچہ ان کی بات سمجھتے ہوئے میں نے ان کے ہاتھوں کو بوسہ دیا اور باہر آگیا۔(قندِمکرر)

اپنا تبصرہ بھیجیں