میاں شہباز شریف کے نام

قابلِ احترام میاں محمد شہباز شریف صاحب، وزیراعظم پاکستان

السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ

بذریعہ کالم و اخبار آپ سے اس لیے مخاطب ہو رہا ہوں کیونکہ آپ کے ساتھ خلوتوں میں بیٹھ کر دل کی بھڑاس نکالنے کا وقت ختم ہوا۔ اب آپ وزیراعظم پاکستان ہیں جبکہ میں ایک صحافی ہوں۔ ایک اور وجہ یہ ہے کہ آپ اس وقت قوم کے لیڈر بن گئے ہیں جبکہ ایک صحافی کی حیثیت سے عام آدمی اور عام پاکستانی کی آواز بننے کے لیے آپ کی حکومت کو خبر دینا اور اُسکی خبر لینا میرا فرض بن گیا ہے۔ چنانچہ اس کھلے خط کا سہارا لے رہا ہوں تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے۔

مجھے ادراک ہے کہ عمران احمد خان نیازی کی مسلط کردہ حکومت نے پاکستان کو معاشی، سفارتی، انتظامی اور معاشرتی حوالوں سے ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ آپ سے راتوں رات تبدیلی یا انقلاب لانے کی توقع غیرمنطقی ہے لیکن آپ اگر اپنی ترجیحات کو درست رکھیں تو کم از کم گراوٹ کے سفر کو روکا جا سکتا ہے بلکہ ملک کو ترقی کی راہ پر بھی گامزن کیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ اس تناظر میں چند گزارشات آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں۔

1: اقتدار اور طاقت انسان کو غرور اور تکبر کا شکار بناتے ہیں لیکن یہ ذہن میں رکھیں کہ اس سے زیادہ ناپائیدار اور بےوفا چیز بھی دنیا میں کوئی نہیں۔ آپ اس اقتدار کو اللہ کا انعام اور آزمائش سمجھیں گے تو غرور اور تکبر سے بچے رہیں گے لیکن اگر اس کے نشے میں مبتلا ہوگئے تو عمران خان بن جائیں گے۔ یوں نہ صرف قرآن سے برابر رہنمائی لیا کریں بلکہ عمران خان اور ان کے ساتھیوں کے انجام کو بھی ہر وقت مدنظر رکھیں۔

2: مجھے احساس ہے کہ آپ کی حکومت ایک مخلوط حکومت ہے اور پوری ٹیم آپ کی مرضی سے نہیں بن سکتی لیکن اپنی پارٹی سے بھی خالص میرٹ کو مدنظر رکھ کر وزیر مشیر تعینات کیجئے اور کوشش کریں کہ اپنے اتحادیوں کو بھی اس پر مجبور کریں کہ وہ اپنے حصے کے مناصب کے لیے جو نام تجویز کریں وہ کسی نہ کسی حد تک اس منصب کے لیے موزوں ہوں۔

3: آپ اگرکامیابی چاہتے ہیں تو خوشامدیوں سے دور رہیں اور آپ کی ٹیم میں جو جس قدر زیادہ منہ پر تنقید کی ہمت کرے، اسے زیادہ عزت سے نوازیں۔

4: ماضی کا سبق یہ ہے کہ مسلم لیگ(ن) کی حکومت عملاً پنجاب اور پھر وسطی پنجاب کے لوگوں کی حکومت بن جاتی ہے۔ اب کی بار آپ کی حکومت نہ صرف یہ کہ سندھ، بلوچستان اور پختونخوا میں ووٹ بینک رکھنے والوں کی سپورٹ کی مرہون منت ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ کراچی، بلوچستان اور پختونخوا کی احساسِ محرومی اس ملک کی سلامتی کے لیے بڑا چیلنج ہے۔ اس لیے پاکستانیت کا تقاضا یہ ہے کہ آپ نہ صرف اپنی ٹیم کی تشکیل میں ان علاقوں کو خصوصی اہمیت دیں بلکہ بطور وزیراعظم ان علاقوں کے مسائل کو بھی اپنی ترجیحات میں سرفہرست رکھیں۔

5: آپ کی جماعت کا فوج کے ساتھ ماضی کچھ اچھا نہیں رہا۔ درمیان میں دونوں طرف سے غلطیوں کی وجہ سے بہت تلخیاں جنم لے چکی ہیں۔ اپنی جماعت کو بطور جماعت اور فوج کو بطور ادارہ ایک دوسرے کے قریب لانے کے لیے آپ کو بہت محنت کرنی ہوگی، نہیں تو کسی بھی وقت کوئی چنگاری، تلخیوں کی آگ بھڑکا سکتی ہے۔ میرا قطعاً یہ مطلب نہیں کہ آپ ابتدائی دنوں کے عمران خان بن جائیں اور ایک ہائبرڈ نظام سامنے لائیں لیکن فوج کو اس کا جائز مقام اور عزت ضروردیں اور چند افراد کی غلطیوں کی بنیاد پر پوری فوج کو نشانہ نہ بنایا جائے۔

راتوں رات پاکستان کو ترکی بنانے کا خیال اپنے بھائی اور ساتھیوں کے دلوں سے نکال دیں۔ ماضی کو بھول جائیں اور جنرل فیض حمید سمیت ہر کسی سے انتقام لینے کی سوچ دل سے نکال دیں۔ فتح کے بعد مخالفین کو معاف کرنا اللہ کے نبی ﷺ کی سنت بھی ہے اور حکمت کا تقاضا بھی۔

6: مجھ سے زیادہ شاید ہی کسی کو احساس ہو کہ پی ٹی آئی کا دور بدتمیزی اور انتقام پر مبنی بدترین دور تھا۔ عمران خان جتنا بھی مذہب کی آڑ لے لیکن ہم جانتے ہیں کہ وہ بنیادی طور پر فاشسٹ اور ہٹلر کے پیروکار تھے۔ آپ اور آپ کے خاندان نے ان کے دور میں جو کچھ برداشت کیا، وہ بیان کرتے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں لیکن آپ اگرکامیاب حکمران بننا چاہتے ہیں تو عمران خان سمیت سب کے بارے میں انتقام کا خیال دل سے نکال دیں۔

اب آپ پورے پاکستان کے وزیراعظم ہیں نہ کہ صرف مسلم لیگ (ن) یا اتحادیوں کے۔ پی ٹی آئی کے ووٹر کا بھی آپ پر اتنا ہی حق ہے جتنا کہ لیگی ورکروں کا۔ ہاں جن سیاسی رہنمائوں یا بیوروکریٹس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے، اس کی تلافی ضرور کیجئے اور جنہوں نے کھلی قانون شکنی کی ہے، ان کے خلاف کارروائی بھی ضرور کیجئے لیکن اس سے رتی بھر انتقام کی بو نہیں آنی چاہئے۔کوشش کیجئے کہ احتساب کا کوئی ایسا نظام بن جائے جو سب کا احاطہ کرتا ہو اور سب کے لیے قابلِ قبول ہو۔

7: مسنگ پرسنز کا ایشو ایک سنگین اور دردناک مسئلہ ہے۔ اس مسئلے پر خصوصی توجہ دیجئے۔ فوجی قیادت اور اداروں سے مل کر اس کے لیے کوئی میکانزم تشکیل دیجیے۔

8: گزشتہ چند سال میں ریاستی اداروں کا وقار بری طرح مجروح ہوچکاہے۔ ہر ریاستی ادارے کو ٹریک پر لانے اور آئینی رول تک محدود کرنے کی کوشش کیجئے تاہم اس عمل میں متعلقہ اداروں کی مشاورت ضرور شامل ہونی چاہئے۔

9: آخری گزارش میرے اپنے پیشے یعنی میڈیا سے متعلق ہے۔ گزشتہ برسوں میں میڈیا کو تقسیم بھی کیا گیا اور اس کی وقعت بھی خاک میں ملا دی گئی۔آپ مہربانی کریں اور میڈیا کو ماضی کی حکومتوں کی طرح اپنا ٹول بنانے کی کوشش نہ کریں۔ جن میڈیا چینلز، اینکرز یا لکھاریوں نے آپ کے ساتھ زیادتی کی ہے، جواب میں آپ ان کو انتقام کا نشانہ نہ بنائیں۔ ان کا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیں اور سب میڈیا آرگنائزیشن اور میڈیا پرسنز کے ساتھ یکساں برتائو کریں۔

میڈیا کو کنٹرول کرنے کی بجائے میڈیا آرگنائزیشنز کی مشاورت سے فقط اسے ریگولیٹ کریں تاکہ فیک نیوز کے پھیلائو اور اس کے بطور ٹول استعمال ہونے کا سلسلہ بند ہو۔ اسی طرح کسی میڈیا پرسن کو کوئی سرکاری عہدہ دینے سےگریز کریں۔ میڈیا پرسنز کا سرکاری عہدے قبول کرنا میڈیا کے لیے بھی اچھا نہیں اور خود حکومت کے لیے بھی۔

سیاستدانوں کو سیاستدانوں کا کام کرنے دیجئے۔ بیوروکریٹ اور پولیس کو اپنا کام کرنے دیجئے اور میڈیا کو اپنا کام۔ اس ملک کی بقا کا راستہ ہی یہ ہے کہ ہر کوئی آئین کے دائرے میں رہے اور اپنے کام سے کام رکھے۔ واضح رہے کہ میڈیا کا کام خبر دینا اور تنقید کرنا ہے لہٰذا اسے اس کام سے روکنے کی کوشش نہ کیجئے۔

نیک تمنائوں کے ساتھ

سلیم صافی

اپنا تبصرہ بھیجیں