شیاطین کے وفد سے ملاقات

رمضان المبارک کا چاند نظر آتے ہی مجھے شیطان کا ایس ایم ایس موصول ہوا ’’رمضان مبارک‘‘۔

میں نے اسے جواب میں لعن طعن کی اور کہا ’’بدبخت تُو تو رمضان میں قید ہو جاتا ہے تو پھر یہ اچانک کہاں سے ٹپک پڑا؟‘‘جواب آیا ’’شیطان قید ہوتا ہے، اس کے چیلے چانٹے تو قید نہیں ہوتے اور میں شیطان کا ادنیٰ سا چیلا ہوں‘‘۔ میں نے پوچھا ’’تم نے مجھے ایس ایم ایس کیوں کیا؟‘‘ جواب ملا ’’ایک تو رمضان کی مبارک دینے کیلئے اور دوسرا یہ پوچھنے کیلئے کہ تمہارا روزہ ہے؟‘‘ میں نے کہا ’’الحمدللہ روزے سے ہوں!‘‘

’’میرا بھی روزہ ہے مگر لگ بہت رہا ہے!‘‘

میں نے کہا ’’شیطان کے چیلے، تُو نے روزہ کیسے رکھ لیا؟‘‘ جواب آیا ’’مسلمانوں کے گھر پیدا ہوا ہوں، اور یوں بس عادت سی ہے،ویسے بھی میں چاہتا ہوں کہ لوگوں پر میری اصلیت ظاہر نہ ہو‘‘میں نے اسے میسج کیا،۔ ‘‘کیا تم سے دوبدو ملاقات ہو سکتی ہے؟‘‘ جواب آیا، کیوں نہیں، کل تمہارے دفتر حاضر ہو جاؤں گا اوراگلے روز وہ میرے دفتر میں میرے سامنے والی کرسی پر بیٹھا تھا، اس کے ساتھ شیاطین کا ایک پورا وفد تھا۔ شیطان کے جس چیلے سے میری بات ہوئی تھی اس کی داڑھی مونچھ منڈی ہوئی تھی اور اس نے بہت مہنگا سوٹ پہنا ہوا تھا، وہ خوبصورت شخص تھا اس کے ساتھ آنے والے دیگر افراد میں سے کچھ نے کلف لگے کرتے اور شلواریں پہنی ہوئی تھیں اور سروں پر ٹوپیاں تھیں اور کچھ قمیض پتلون میں ملبوس تھے، ان میں سے ایک شخص شرعی وضع قطع کا حامل تھا۔ چہرے پر گھنی داڑھی تھی اور مونچھیں کتری ہوئی تھیں اس نے کاندھوں پر رومال رکھا ہوا تھااور ایک رومال سر پر باندھا ہوا تھا۔

شیطان کے چیلے نے اپنا تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ اس کی جعلی ادویات کی فیکٹری ہے۔ دوسرے افراد کے بارے میں اس کا کہنا تھا ان میں سے کچھ گراں فروش ہیں۔ ہیروئن کا کام کرتے ہیں، کئی ایک ملک میں دہشت گردی کی وارداتیں کرتےہیں۔ ایک صاحب قبضہ گروپ کے تھے، ایک اشیائے خورو نوش میں ملاوٹ کرتے تھے، ایک رشوت خورافسر تھے، ان سب نے روزہ رکھا ہوا تھا۔ مولانا کے بارے میں پتہ چلا کہ کوئی پائے کے عالم نہیں بس ایک مسجد میں امامت کراتے ہیں۔ شیطان کے چیلے نے کمرے میں داخل ہوتے ہی مجھے الگ لے جا کر کہا تھا کہ مولانا کو پتا نہ چلے کہ ہم لوگ شیطان کے چیلے چانٹے ہیں کیونکہ اس کے بعد انہیں وہ چھوٹ دینے میں مشکل پیش آئے گی جو وہ ہمارے شیطانی کاموں کے ضمن میں ہمیں دیتے ہیں۔

میں نے مولانا کو مخاطب کیا اور کہا ’’حضرت، یہ سب لوگ جو آپ کے ساتھ آئے ہیں ان سب نے مل کر امت محمدیہ کی زندگیاں اجیرن کی ہوئی ہیں، کوئی جعلی ادویات بنا رہا ہے، کوئی لوگوں کی جائیدادوں پر قبضہ کر رہا ہے، کوئی ملک دشمنوں کے جعلی پاسپورٹ بناکر انہیں دہشت گردی کے مواقع مہیا کر رہا ہے۔آپ کا ان کے ساتھ آنا مجھے بہت عجیب سا لگا ہے‘‘۔ مولانا نے یہ سن کر تبسم کیا اور اپنی داڑھی میں انگلیوں سے خلال کرتے ہوئے فرمایا، میں یہ سب کچھ جانتا ہوں لیکن یہ آپ نے تصویر کا صرف ایک رخ پیش کیا ہے۔ آپ کو شاید یہ علم نہیں کہ یہ سب لوگ ماہِ رمضان المبارک میں پورے تیس روزے رکھتے ہیں۔ پنج وقت نماز ادا کرتے ہیں، ، صدقات، خیرات، زکوٰۃ ادا کرتے ہیں، یہ اچھے مسلمان ہیں، باقی ان میں جو چھوٹی موٹی کوتاہیاں ہیں اللہ تعالیٰ ان کی نیکیوں کے صدقے میں ان سے درگزر کرے گا! میں نے عرض کی حضرت یہ آپ کیا فرما رہے ہیں؟ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ انسانوں کے حقوق پامال کرنے والوں کی عبادت ان کے منہ پہ ماری جائے گی۔ بولے، ہاں یہ تو ہے لیکن یہ لوگ ہیں تو مسلمان، کافر تو نہیں ہیں اور ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ مومن پر دوزخ کی آگ حرام ہے۔ میں نے پوچھا ’’تو کیا یہ لوگ مومن ہیں ‘‘ بولے کلمہ گو ہیں چنانچہ دوزخ میں نہیں جائیں گے۔

میں نے عرض کی میں آپ سے متفق ہوں لیکن صرف اس صورت میں ان پر آتشِ دوزخ حرام ہو سکتی ہے اگر یہ سچے دل سے توبہ کریں اور جو لوگ ان کے ہاتھوں مرے ہیں، طرح طرح کی بیماریوں میں مبتلا ہوئے ہیں، جن کی جائیدادیں انہوں نے ہتھیائی ہیں وہ اُن سب کے نقصانات کی تلافی کی جائے اور آئندہ کیلئے یہ ان دھندوں سے باز آجائیں تو اللہ تعالیٰ ان مظلوموں کے راضی ہونے پر ان کی ماضی کی خطائیں معاف کر سکتا ہے۔ مولانا نے فرمایا ’’ہاں یہ بات تو صحیح ہے‘‘ میں نے کہا آپ نے یہ بات ان شیاطین کو بتائی تھی؟ مولانا بولے ایک دفعہ بتائی تھی لیکن میں زیادہ وقت صرف عبادات کے نتیجے میں ملنے والی جنت کی بشارتیں ہی انہیں سناتا رہا ہوں کہ شاید عبادات کے نتیجے ہی میں یہ اچھے مسلمان بن جائیں!‘‘

شیطان لعین کا چیلا گفتگو کے اس موڑ پر خاموش نہ رہ سکا، اس نے مجھے مخاطب کیا اور کہا ’’تم اخبار میں کالم لکھتے ہو! کیا سچ لکھتے ہو؟‘‘ میں نے عرض کی ’’کوشش تو کرتا ہوں‘‘ بولا ’’میں تمہارے کرتوتوں سے واقف ہوں، تم ڈھیر سارے جھوٹ میں ذرا سے سچ کی ملاوٹ کر دیتے ہو اور یہ دس فیصد سچ سو فیصد جھوٹ سے زیادہ خطرناک ہو جاتا ہے۔ تم نے ماضی کے تمام طالع آزمائوں کی حمایت کی ہے جو جمہوریت پر شب خون مارتے ہیں، تم بہترین لوگوں کو بدترین اور بدترین لوگوں کو بہترین ثابت کرنے میں لگے رہتے ہو۔ تم پاکستان کے بھولے بھالے عوام کو اپنے سحر انگیز قلم سے اسی عذاب میں مبتلا رکھنے کی کوشش کرتے ہو، جس عذاب میں ہم نے انہیں مبتلا کیا ہوا ہے، تم ہم میں سے ہو اور پھر اپنی نشست سے اٹھ کر مجھے گلے لگا لیا اور کہا یار بہروپ تو ہم نے بھی دھارا ہوا ہے لیکن تم ہم سے بڑے بہروپیے ہو، تمہارے پاس ایسا ہنر ہے جس کے ذریعے تم انہیں ساری عمر بیوقوف بنا سکتے ہو۔ ہم شیاطین کی مجلسِ شوریٰ میں امیر کی کمی تھی، ہم تمہیں اپنا امیر مانتے ہیں اور تمہارے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں۔اور اس کے ساتھ ہی شیطان کے چیلے ایک ایک کرکے میری طرف بڑھے اور میرے پائوں کو چھو کر الٹے پائوں واپس ہوتے چلے گئے۔ مولانا شاید اونچا سنتے تھے یا ایسے مواقع پر انہیں اونچا سنائی دیتا تھا چنانچہ وہ گم سم بیٹھے حیرت سے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں