عدم اعتماد۔ اندرونی کہانیاں

ایک بات طے ہے کہ اپوزیشن تحریکِ عدم اعتماد لارہی ہے اور عمران خان ہی کے خلاف لارہی ہے۔ جو تاخیر ہوئی، اس کی وجہ قطعاً وہ نہیں جو حکومت بتارہی ہے۔ اپوزیشن ہفتہ پہلے ہی تعداد پوری کر چکی تھی اور آج بھی پوری ہے۔ تاخیر اپوزیشن رہنماؤں کی کچھ اپنے معاملات کی وجہ سے ہوئی یا پھر حکومت کے اتحادیوں کی سیاست کے باعث۔

پاکستان کی سیاست میں بنیادی تبدیلی کی ہوائیں اس وقت سے چلنے لگی ہیں جب گزشتہ سال اکتوبر میں ایک اہم کچھ ادارے میں اہم تبادلے ہوئے اور عمران خان نے اس میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کی۔ جب تبادلوں کا عمل مکمل ہوا تو اس ادارے نے غیرجانبدار رہنے کا فیصلہ کیا۔

اس دوران ادارے نے اپنی پوزیشن کی بحالی اور دوبارہ اپنے آپ کو ایک قومی ادارے کے طور پر پیش کرنے کے لیے اپوزیشن رہنماؤں کے ساتھ اعتماد سازی کا عمل شروع کردیا۔ میاں نواز شریف، زرداری اور مولانا سے رابطے ہوئے لیکن 6 برسوں سے مسلسل دھوکے کھانے کی وجہ سے وہ یقین کرنے کو تیار نہ تھے۔

چنانچہ دو ماہ کا وقت اس میں لگ گیا لیکن بالآخر یہ تینوں رہنما قائل ہو گئے کہ اگر وہ کوئی سیاسی قدم اٹھائیں گے تو ماضی کی طرح ان کا راستہ نہیں روکا جائے گا۔ کہا جاتا ہے کہ نواز شریف اور زرداری کے اعتماد کو بحال کرنے میں کچھ بیرونی دوست ممالک نے بھی کردار ادا کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ الیکشن کمیشن کے بعض فیصلوں اور خیبرپختونخوا کے بلدیاتی انتخابات کی شکل میں عملی طور پر بھی اپوزیشن پر مذکورہ ادارے کی غیرجانبداری واضح ہو گئی۔ چنانچہ عدم اعتماد کے لیے صلاح مشوروں کا آغاز ہوا۔

جب عمران خان کو احساس ہوا کہ ان کی دھمکیاں کام نہیں دکھا رہیں تو وہ ہاتھ جو انہوں نے گریبان میں ڈالا تھا، قدموں میں لے گئے۔ ان لوگوں کے گھروں پر حاضریاں دینا شروع کردیں جنہیں پہلے دھمکیاں دیا کرتے تھے۔ انہیں وہ کچھ بھی آفر کیا جو انہوں نے ان سے مانگا بھی نہیں تھا۔ بزدار کی تبدیلی پر بھی رضامند ہو گئے۔ بار بار غیرضروری ملاقاتیں بھی شروع کردیں اور اجلاس بھی بلانے لگے۔

اس سے اپوزیشن کو ایک بار پھر خدشہ پیدا ہوا کہ کہیں دوبارہ اکتوبر سے پہلے والی صورتِ حال تو نہیں بن رہی۔ چنانچہ وہ دوبارہ کچھ پیچھے ہٹ گئی اور ایک بار پھر غیرجانبداری کی یقین دہانی مانگی جو انہیں کروائی گئی۔

اس کے بعد ایک بار پھر عدم اعتماد کے حوالے سے سنجیدہ مگر خفیہ کوششوں کا آغاز ہوا اور چند ہی روز میں پی ٹی آئی کی صفوں سے جہانگیر ترین گروپ کی صورت میں اپوزیشن کو مطلوبہ تعداد مل گئی۔ درجنوں کی تعداد میں پی ٹی آئی کے ایم این ایز مسلم لیگ (ن) کے پاس آنے لگے۔ سب سے بڑا مطالبہ اگلے انتخابات میں پارٹی ٹکٹ کا ہے۔

کچھ لوگوں نے زرداری سے میچ فکسنگ کرلی جبکہ خیبرپختونخوا کے کئی ایم این ایز مولانا سے ٹکٹ کے بدلے عمران خان کو چھوڑنے پر تیار ہوئے اور تو اور پی ٹی آئی کے تین سینیٹرز بھی جے یو آئی میں آنے کے لیے تیار ہیں۔ پھر سوال یہ تھا کہ عمران خان کو ہٹانے کی صورت میں متبادل کون ہو؟ پہلے فیصلہ یہ ہوا تھا کہ زرداری صاحب کو اس پر آمادہ کیا جائے کہ وہ وزارتِ عظمیٰ نون لیگ کو دیں۔ یہ کام مولانا نے ایک دو دن میں کر دکھایا۔

انہوں نے میاں شہباز شریف کو متبادل وزیراعظم بنوانے پر میاں نواز شریف اور مریم نواز کو راضی کرنے میں کچھ نہ کچھ کردار ضرور ادا کیا۔ پھر پی ڈی ایم میں شامل دیگر جماعتوں کو راضی کرنے کا معاملہ درپیش تھا کیونکہ وہ بھی بداعتمادی کی شکار تھیں اور انہیں یہ ڈر تھا کہ ماضی کی طرح ان کے ساتھ ہاتھ نہ ہو جائے۔

چنانچہ زرداری، مولانا اور شہباز شریف نے انہیں قائل کیا کہ اب کی بار کام پکا ہے۔ اب ایک اور مرحلہ یہ درپیش تھا کہ صرف پی ٹی آئی کے باغیوں پر انحصار کیا جائے یا حکومت کے ساتھ اتحاد بالجبر میں بندھے ہوئے اتحادیوں یعنی قاف لیگ، باپ اور ایم کیوایم کے ساتھ بھی بات کی جائے۔

نون لیگ کی رائے یہ تھی کہ چوہدری برادران وغیرہ پر وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے کیونکہ ممبران کی مطلوبہ تعداد میسر ہے لیکن مولانا اور زرداری کی رائے یہ تھی کہ تعداد پوری ہونے کے باوجود حکومت کی اتحادی جماعتوں سے بات کرنی چاہیے۔ چنانچہ زرداری اور مولانا نے چوہدری برادران اور شریف خاندان کے درمیان پل کا کردار ادا کیا۔ اس لیے شہباز شریف چوہدری برادران کے پاس گئے۔ زرداری اور مولانا نے شریف خاندان کو اس پر بھی آمادہ کرلیا کہ وہ پنجاب کی وزارت اعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی کو دیں۔

اختلافی نکتہ فقط یہ تھا کہ چوہدری پرویز الٰہی صرف تین ماہ کے لیے وزیراعلیٰ نہیں بننا چاہ رہے تھے اور پیپلز پارٹی کی طرح ان کی بھی خواہش تھی کہ پھر اسمبلیوں کو مدت پوری کرنے دی جائے۔ اس دوران چوہدری برادران کو عمران خان نے بھی یہی پیشکش کردی اور یہ تاثر دیا کہ وہ بزدار کی جگہ پرویز الٰہی کو وزیراعلیٰ بنا سکتے ہیں۔

اسی وجہ سے چوہدری برادران نے میاں شہباز شریف کے ہاں جاکر کھانا کھانے سے عین وقت پر معذرت کرلی۔ یہی وجہ تھی کہ جب وہ چوہدری برادران سے ملاقات کے لیے جارہے تھے تو عثمان بزدار ملاقات میں شریک ہونے کے بجائے باہر گاڑی میں انتظار کررہے تھے۔ چوہدری برادران اس وقت دوکشتیوں میں سواری کررہے ہیں۔ وہ انتظار کررہے ہیں کہ اگر اپوزیشن کا پلڑا بھاری ہوا تو ان کے ساتھ چلے جائیں گے اور اگر حکومت کا پلڑا بھاری ہوا تو اس کے ساتھ کھڑے ہو جائیں گے۔

مثلاً ایک طرف شہباز شریف کے کھانے پر جانے سے عین وقت پر معذرت کرلی لیکن دوسری طرف بلاول بھٹو کو دعوت دی کہ گجرات سے گزرتے ہوئے وہ ان کے ہاں کھانا کھا لیں، لیکن زرداری صاحب نے بلاول کو یہ کہہ کر منع کردیا کہ پہلے چوہدری برادران کو شہباز شریف کے معاملے کی تلافی کرنی چاہیے۔ یوں ایک تو چوہدری برادران کا انتظار ہے کہ وہ حتمی فیصلہ کیا کرتے ہیں؟ دوسری طرف ایم کیو ایم اور باپ کے ایک سیکشن سے بھی رابطہ ہے۔

میاں نوازشریف نے مولانا کو فون کرکے اختیار دے دیا ہے کہ وہ زرداری اور شہباز شریف کے ساتھ عدم اعتماد کے سلسلے میں عملی قدم اٹھائیں۔ توقع تھی کہ جمعرات کی شام کو مولانا اور زرداری کی ملاقات میں تاریخ کا اعلان کردیا جائے گا کیونکہ جو تفصیلات طے ہوئی ہیں، اُن کے مطابق متبادل وزیراعظم شہباز شریف ہوں گے۔

اسپیکر شپ پیپلز پارٹی کے حصے میں آئے گی اور چیئرمین سینیٹ کی سیٹ جے یو آئی کو دی جائے گی لیکن اپوزیشن کی حکومت کی ممکنہ چالوں پر بھی نظر ہے، اس لیے وہ تاریخ کے سلسلے میں سرپرائز دینے کی کوشش کررہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں