’’میرا ملک میری مرضی‘‘

کیسی دلچسپ پہیلی ہے کہ ہوتا ہواتا کچھ بھی نہیں حالانکہ ہمارے وطن میں لاتعداد ارسطو، افلاطون، جان لاک، روسو، ایڈمنڈبرک، ہیگل، سٹوارٹ مل اور ہیرلڈ لاسکی نہ صرف پاکستان کے تمام تر ’’مسائل‘‘ سے بخوبی واقف ہیں بلکہ ان کے پاس ہر مسئلہ کا ’’حل‘‘ بھی موجود ہے حالانکہ مسائل اتنے ہیں کہ انہیں ’’حل‘‘ کرتے کرتے نجانے کتنی نسلیں گزر جائیں گی اور تب تک ہمارے حریف جانے کہاں پہنچ چکے ہوں گے اور یہ کرۂ ارض ان کے لئے ایک ایسے کھلونے سے زیادہ کچھ بھی نہ ہوگا جسے وہ ریموٹ سے جیسے چاہیں گے چلائیں گے۔ وہ یہاں ایسے ’’تشریف‘‘ لایا کریں گے جیسے کوئی بہت بڑا جاگیردار کبھی کبھی اپنی جاگیر کے دورے پر آیا کرتا ہے۔ عملاً وہ یہ سب کچھ کرۂ ارض پر اپنی فزیکل موجودگی میں آج بھی کر رہے ہیں جو بہ آسانی دیکھا جاسکتاہے لیکن بہت سے شتر مرغ اس ننگے خطرے کو دیکھ کربھی اپنے خالی سر ریت میں دبائے ہوئے ہیں جنہیں دیکھ کر وہ معصوم کبوتر یاد آتا ہے جو خونخوار بھوکی بلی کو دیکھ کر اپنا منہ پروں میں چھپالیتا ہے اور پھر جو ہوتا ہے…. ہم جانتے ہیں۔

مجھ جیسے کودن، نیم خواندہ شخص کو کوئی دانشور یہ سمجھانے بتانے کی زحمت فرمائے کہ جو مخصوص پاورز اورسپر پاورز کسی غرض، مفاد اور ضرورت کےبغیر ایک ڈالر خرچ کرنے کی روا دار نہیں، وہ گزشتہ کئی دہائیوں سے خلائوں اور دیگر سیاروں کو تسخیر پر اربوں نہیں، کھربوں نہیں پدموں ڈالر کیوں خرچ کر رہی ہیں؟ کیاان کے خود غرض حکمران وہاں جائیدادیں خرید رہے ہیں؟ اپسرائوں کے مجرے سن رہے ہیں؟ عیاشی کے اڈے تعمیر کر رہے ہیں یا چاند اور مریخ پر اپنی اولادوں کی حکومتیں تیار کر رہے ہیں۔اقبال صاحب نے کہا تھا :

’’خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے؟‘‘

یقیناً ایسا ہی ہوگا لیکن وہ صرف ’’بندوں‘‘ سے پوچھے گا . . . . بندروں اور بگھیاڑوں سے نہیں اور بندہ صرف وہ ہے جو بندوں کی فلاح و بہبود، آزادی، عظمت اور عروج چاہتا ہے، انہیں اوج کمال پر دیکھنا چاہتا ہے،صرف اپنے جاہ و جلال کا گھٹیا گاہک نہیں جو اندھا دھند ملکی دولت لوٹ کر باہر لے جانے کے بعد ایسے لوگوں کو پیچھے چھوڑ جاتا ہے جن کا تکیہ کلام ہی صرف یہ ہوتا ہے کہ ….’’کھاتے ہیں تو لگاتے بھی ہیں‘‘۔ایسے لوگوں کی نسلیں نوحوں کا عنوان نہ ہوں گی تو کیا ہوگا؟ اور ایسا ہونا بھی چاہیے۔

ہم ’’راہ راست‘‘ پر ہیں اور ہمارے حریف ’’بے راہروی‘‘ کا شکار تو ہمارے اور ان کے درمیان زمین و آسمان کے سے یہ فاصلے کیوں ہیں؟ کیا قدرت نے بھی اپنے آئین میں کوئی ’’ترمیم‘‘ کرلی؟ کبھی نہ بھولیں کہ وہ صرف مسلمانوں کا ہی نہیں، انسانوں کا رب ہے، خصوصاً ان انسانوں کا جو اپنے اندر اس کے احکامات کو پریکٹس کرتے اور یقینی بنانے کے لئے مسلسل کوششوں میں جتے رہتے ہیں، اس کی مخلوق کو بہتر طور پر جینے کے لئے جدوجہد کرتے ہیں۔ مجھ جیسا ’’منافق‘‘ نسل در نسل اگر اوریجنلی عرب بھی ہو، مسلمان ابن مسلمان ابن مسلمان ابن مسلمان علیٰ ہذالقیاس ہو لیکن عملاً اس کی مخلوق کا بدترین استحصالی ہو تو کیا وہ اس کے رحم و کرم، انعام و اکرام و برکتوں کا بھی مستحق ہوگا؟ہماری تاریخ گواہ ہے کہ نہ ایسا کبھی ہوا نہ ہوگا۔ ’’بے شک تم غالب آئو گے اگر تم مومن ہو‘‘ تو جو پریکٹس میں جتنا بھی مومن ہوگا، اتنا ہی غالب ہوگا۔ باقی سب بہانے او ر افسانے ہیں کہ وہ تو رب العالمین ہے . . . . . ہر ایک کا رب یعنی پالنے والا اور اس کی عدالت میں صرف ’’عدل‘‘ ہوتا ہے اور عدل ہر قسم کے لیبل سےماورا ہوتا ہے۔

’’کوئی تو ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے

وہی خدا ہے‘‘

منافق تو مشرک سے بھی بدتر ہوتا ہے۔ جہاں صرف دھندے اور دکانیں ہوں ، وہاں سے جلال و جمال و کمال رخصت ہونا ہی ہوتا ہے۔ ہم ایک دوسرے کو کامیابی سے دھوکہ دے سکتے ہیں لیکن . . . . .؟ مختصراً یہ کہ ’’مسائل کو گولی مارو . . . .’’امّ المسائل‘‘ کو ڈھونڈو،صرف اس پر فوکس کرو . . . . چوروں کے تعاقب سے تائب ہو کر صرف چوروں کی ماں کو ڈھونڈو، اس پر فوکس کرو۔

بحث ہو تو مسائل نہیں صرف ’’امّ المسائل‘‘ پر ہو جو مسلسل خرگوشنی یا کتیا کی طرح بچے جن رہی ہے اور جنے جا رہی ہے۔

ایک بات یاد رکھنے، سوچنے، سمجھنے کی ہے کہ جب ہرن چال میں پڑ جائے یعنی چوکڑیاں بھرنے لگے تو بڑے سے بڑا شکاری بھی اس کے تعاقب سے توبہ کرتے ہوئے گھوڑا کھینچ لیتا تھا کہ اب ہرن کا پیچھا کرنا بیکار ہوگا۔ ہمارے ’’حریف‘‘ ہرنوں کی طرح چوکڑیاں بھر رہے ہیں، خلیج ناقابل عبورہوتی جا رہی ہے اور پورا عالم اسلام، خصوصاً اس کی اکلوتی ایٹمی طاقت بھی مسخروں کی جنگ سے لطف اندوز ہو رہی ہے۔

وقت بہت ہی کم اور مقابلہ بہت ہی سخت ہے۔

یہ پیپلز پارٹیاں، نون لیگیں اور تحریک انصافیں اس عالمی کھیل میں کچھ بھی کرنے کے قابل نہیں کیونکہ ان کےپاس نہ کوئی WILL ہے نہ وزڈم اور وژن۔ سب سے بڑا المیہ تو یہ کہ جو مخلص لوگ ہیں وہ بے چارے بھی جس کے سبب بیمار ہوئے، اسی کے لونڈے کی دوائوں سے علاج کے خواہش مند ہیں جو دشمنوں کی تلواروں سے تحفظ کی خواہش کے سوا کچھ بھی نہیں۔

’’وہ‘‘ تو دو ورلڈ وارز لڑنے کے بعد بھی بنیادی ایجنڈے پر متحد اور متفق ہیں جبکہ ہم ؟ . . . . یہ عالم اسلام اتحاد و اتفاق کے حوالہ سے آج کہاں کھڑا ہے؟ کہاں کی ایٹمی طاقت اور کہاں کے پٹرول اور پیٹرو ڈالر؟خوف آتا ہے یہ سوچ کر کہ موجودہ، سابقہ نسلیں تو عزت بے عزتی کے درمیان گزر بسر کر گئیں… ہماری آئندہ نسلوں کا کیا بنے گا؟ غلام ابن غلام ابن غلام لیکن خیر ہے کیونکہ ’’مہذب دنیا‘‘ میں غلاموں ہی نہیں جانوروں کے بھی کچھ حقوق ہوتے ہیں جنہیں انہوں نے انسانی اور نسوانی حقوق کا نام دے رکھا ہے۔

یہ ’’ہیومن رائٹس‘‘ چاہے ’’ہیومن‘‘ ہو نہ ہو۔

’’میرا جسم میری مرضی‘‘ بھلے جسم اپنا ہو نہ ہو، نہ پیدائش مرضی سے نہ موت . . . . جینڈر مرضی کا ہو نہ ہو لیکن ’’میرا ملک میری مرضی‘‘۔

اپنا تبصرہ بھیجیں