دونمبر اشرافیہ کیلئے

دوسری کہانی

سوچا تو یہ تھا کہ ’’اسلام اور یہودیت‘‘ بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ ’’عالم اسلام اور صیہونیت‘‘ پر لکھوں گا لیکن گزشتہ کالم پر رسپانس بہت ہی عجیب تھا حالانکہ مدتوں سے ’’ادارہ‘‘ کی طرف سے رسپانس کا رواج ہی ختم ہو چکا ۔کبھی قارئین کےخطوط ہماری رہبری کیا کرتے ۔اللہ بخشے ادارتی صفحہ کے انور قدوائی اور شفیق مرزا مجھے کہا کرتے کہ ادارہ کو چاہئے آپ کو خطوط کیلئے کھوتا ریڑھی مہیا کرے کہ آپ کے خطوط سنبھالے نہیں جاتے لیکن اب……. مدتوں سے میں جانتا ہی نہیں کہ ’’فیڈبیک‘‘ کیا اور کیسا ہے ؟ حالانکہ ’’فیڈبیک‘‘ سے کالم نگار بہت کچھ سمجھتا اور سیکھتا ہے۔ مختصراً یہ کہ گزشتہ کالم پر ٹوٹل فیڈ بیک ان کی طرف سے ہے جن کے ساتھ میرے ذاتی ٹیلی فونک رابطے ہیں جو زیادہ تر تارکین وطن کہلاتے ہیں ۔ گزشتہ کالم کا مقصد تو اس ملک کی دونمبر اشرافیہ کو یہ بتانا تھا کہ اگر تم اس ملک کو سنبھالنے، سنوارنے کی بجائے لوٹنے، بھنبھوڑنے، نچوڑنے میں ہی مصروف رہے تو تمہاری اولادوں کا بھی یونہی حشر نشر ہو گا جیسے مغلوں، روس کے زاروں، ایران کے صفویوں ، ترکی کے عثمانیوں کا ہوا کہ ان کے نام ونشان تک مٹ چکے ۔ نواز شریف جیسے ’’سیانے سوداگروں‘‘ اور نام نہاد سیاست دانوں نے اسی لئے اولادیں باہر سیٹل کر دیں لیکن احمق نہیں جانتے کہ یہ کل وہاں کے کمی کمین ہی ہوں گے اور جاتی عمرا بالآخر امرتسر کے جاتی عمرا میں ہی پہنچ جائے گا لیکن یہ اک اور طرح کی بحث ہے ۔ فی الحال تو صرف اتنا کہ مخصوص محدود قارئین کے فیڈ بیک اور فرمائش پر میں اس ملک کی دو نمبر اشرافیہ کیلئے خواجہ حسن نظامی مرحوم کی ایک نمبر کہانی اس یقین کے ساتھ پیش کر رہا ہوں کہ اس ملک کی جعلی، نقلی، انگریز کی پیداوار دو نمبر اشرافیہ کچھ بھی نہیں سیکھے اور سمجھے گی لیکن میرے قارئین کی خواہش ضرور پوری ہو جائے گی جو مجھے بہت عزیز ہے ۔کہانی پڑھیے’’خواجہ حسن نظامی لکھتے ہیں ‘‘

’’ان کا نام کلثوم زمانی بیگم تھا۔ یہ دہلی کے آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کی لاڈلی بیٹی تھیں ۔چند سال ہوئے ان کا انتقال ہو گیا۔ میں نے بارہا شہزادی صاحبہ سے خود ان کی زبانی ان کے حالات سنے کیونکہ ان کو خواجہ نظام الدین اولیاؒ محبوب الٰہی سے خاص عقیدت تھی ۔مزار پر اکثر حاضر ہوتیں اور مجھے ان کی درد ناک باتیں سننے کا موقع ملتا۔ نیچے جتنے واقعات لکھے ہیں وہ یا تو خود ان کے بیان کردہ ہیں یا ان کی صاحب زادی زینت زمانی بیگم کے ، جواب تک زندہ ہیں اور پنڈت کے کوچہ میں رہتی ہیں اور وہ حالات یہ ہیں۔ جس وقت میرے بابا جان کی بادشاہت ختم ہوئی اور تاج وتخت لٹنے کا وقت قریب آیا تو دلی کے لال قلعہ میں کہرام مچا ہوا تھا۔ درودیوار پر حسرت برستی تھی ۔اجلے جلے سنگ مرمر کے مکان کالے سیاہ نظر آتے تھے تین وقت سے کسی نے کچھ نہ کھایا تھا ۔زینت میری گود میں ڈیڑھ برس کا بچہ تھی اور دودھ کیلئے بلکتی تھی ۔فکر اور پریشانی کے مارے نہ میرے دودھ رہا تھا نہ کسی انا کے ۔ہم سب اسی یاس وہراس کے عالم میں بیٹھے تھے کہ ظل سبحانی کا خاص خواجہ سرا ہم کو بلانے آیا ۔آدھی رات کا وقت، سناٹے کا عالم، گولوں کی گرج سے دل سہمے جاتے تھے لیکن حکم سلطانی ملتے ہی حاضری کیلئے روانہ ہو گئے۔حضور مصلے پر تشریف رکھتے تھے، تسبیح ہاتھ میں تھی۔ جب میں سامنے پہنچی جھک کر تین مجرے بجا لائی۔آپ نے نہایت شفقت سے قریب بلایا اور فرمانے لگے ’’کلثوم لو اب تم کو خدا کو سونپا،قسمت میں ہے تو پھر دیکھ لیں گے تم اپنے خاوند کو لیکر فوراً کہیں چلی جائو، میں بھی جاتا ہوں جی تو نہیں چاہتا کہ اس آخری وقت میں تم بچوں کو آنکھ سے اوجھل ہونے دوں، پر کیا کروں، ساتھ رکھنے میں تمہاری بربادی کا اندیشہ ہے ۔الگ رہو گی تو شاید خدا کوئی بہتری کا سامان پیدا کر دے‘‘ اتنا فرما کر حضور نے دست مبارک دعا کیلئے بلند کئے جو رعشہ کے سبب کانپ رہے تھے دیر تک بلند آواز سے بار گاہ الٰہی میں عرض کرتے رہے۔

’’خدا وندا! یہ بے وارث بچے تیرے حوالے کرتا ہوں، یہ محلوں کے رہنے والے جنگل ویرانے میں جاتے ہیں ۔دنیا میں ان کا کوئی یارومدد گار نہیں تیمور کے نام کی عزت رکھیو اور ان بے کس عورتوں کی آبرو بچائیو ۔پروردگار !یہی نہیں بلکہ ہندوستان کے سب ہندو مسلمان میری اولاد ہیں اور آج کل سب پر مصیبت چھائی ہے ۔میرے اعمال کی شامت سے ان کو رسوا نہ کر اور سب کو پریشانیوں سے نجات دے‘‘

اس کے بعد میرے سر پر ہاتھ رکھا، زینت کو پیار کیا اور میرے خاوند مرزا ضیاالدین کو کچھ جواہرات عنایت کرکے نور محل صاحبہ کو ہمراہ کر دیا، جو حضور کی بیگم تھیں ۔پچھلی رات ہمارا قافلہ قلعہ سے نکلا جس میں دومرد اورتین عورتیں تھیں ۔مردوں میں ایک میرے خاوند اور دوسرے مرزا عمر سلطان ،بادشاہ کے بہنوئی تھے ۔عورتوں میں ایک میں، دوسری نواب نور محل، تیسری حافظہ سلطان بادشاہ کی سمدھن تھیں ۔جب ہم رتھ میں سوار ہونے لگے تو صبح صادق کا وقت تھا تارے سب چھپ گئے تھے مگر فجر کا تارہ جھلملا رہا تھا۔ ہم نے اپنے بھرے پُرے گھر پر اور سلطانی محلات پر آخری نظر ڈالی تو دل بھر آیا اور آنسو امنڈنے لگے ۔نواب نور محل کی آنکھوں میں آنسو بھرے ہوئے تھے اور پلکیں ان کے بوجھ سے کانپ رہی تھیں اور صبح کےستارے کا جھلملانا نور محل کی آنکھوں میں نظر آتا تھا ۔

آخر لال قلعہ سے ہمیشہ کیلئے جدا ہو کر کورالی گائوں میں پہنچے اور وہاں اپنے رتھ بان کے مکان پر قیام کیا ۔باجرے کی روٹی اور چھاچھ کھانے کو میسر آئی۔ اس وقت شدید بھوک میں یہ چیزیں بریانی،متنجن سے زیادہ مزیدار معلوم ہوئیں ۔ایک رات تو امن سے بسر ہوئی مگر دوسرے دن گردونواح کے جاٹ گوجر جمع ہو کر کورالی کو لوٹنے چڑھ آئے۔ سینکڑوں عورتیں بھی ان کےساتھ تھیں جو چڑیلوں کی طرح ہم لوگوں کو چمٹ گئیں۔ تمام زیور اور کپڑے تک ان لوگوں نے اتار لئے۔ جس وقت یہ سڑی بُسی عورتیں اپنے موٹے موٹے میلے ہاتھوں سے ہمیں نوچتی تھیں تو ان کے لہنگوں کی ایسی بو آتی تھی کہ دم گھٹنے لگتا تھا۔ اس لوٹ مار کے بعد ہمارے پاس اتنا بھی باقی نہ رہا جو ایک وقت کی روٹی کو کافی ہوتا ۔ (جاری ہے)

اپنا تبصرہ بھیجیں