ایک ہے غدار، ایک ہے محب وطن

عبدالرحمٰن ماچھی امریکہ کے سفر میں میرے ساتھ تھا۔ میں یورپ تک بائی روڈگیا تھا، وہ مجھے راستے میں ملا تھا۔ برا حال، بانکے دہاڑے، رنگ اڑا ہوا، سہما ہوا کہ اللہ جانے امیگریشن والے کیا سوال پوچھ لیں حالانکہ ان دنوں کوئی پوچھ گچھ نہیں تھی۔

پاکستانی پاسپورٹ کی پوری دنیا میں عزت تھی، مگر عبدالرحمٰن ماچھی گھبرایا ہوا تھا۔

اس وقت اس کی عمر اٹھارہ سال سے زیادہ نہ تھی۔ افغانستان میں داخل ہوتے ہوئے تو اللہ جانے کیوں زیادہ گھبرایا ہوا تھا اور اس کی یہ گھبراہٹ ایران میں سفر کے دوران بھی جاری رہی، بس ترکی کی حدود میں داخل ہونے کے بعد اس کے سانس میں سانس آئی۔

اس سفر میں عبدالرحمٰن ماچھی کی طرح اوربھی بے شمار لوگ شامل تھے۔ یہ سب مجھ سے امیگریشن فارم بھروانے کا کام لے رہے تھے۔

عبدالرحمٰن ماچھی دس جماعتیں پاس تھا مگر وہ بھی میری مدد سے فارم فل کر رہا تھا۔ ترکی کے بعد یہ قافلہ بکھر گیا، کیونکہ ان لوگوں کی اکثریت ترکی سے چھپ چھپا کر یورپ میں داخل ہونے اور پھر وہاں غائب ہو جانے کے ارادے سے گھروں سے نکلی تھی۔

عبدالرحمٰن ماچھی کا ایک بھائی امریکہ میں تھا، سو یہ ترکی کے بعد بھی میرا ہم سفر رہا بلکہ لکسمبرگ سے ایئر آئی لینڈ کی نیو یارک کی فلائٹ میں بھی اس کا ساتھ رہا۔

اس سفر کے دوران اس کے ’’چول‘‘ ہونے کا یقین تو مجھے ہوگیا تھا مگر اس کے باوجود یہ بندہ بہت دلچسپ تھا چنانچہ عمر میں بہت چھوٹا ہونے کے باوجود میری اس سے دوستی ہوگئی۔ میں نیو یارک سے سینٹ لوئیس چلا گیا تھا۔ جہاں میرے بچپن کے دوست مسعود علی خان، اکی، اکبر عالم، خالدی (فصیح الدین خالد)،مالک اور تارا ( طارق بخاری) پہلے سے موجودتھے۔

عبدالرحمٰن ماچھی نیویارک ہی میں اپنے بھائی کے پاس رہا اور اب وہ دوسرے بہت سے پاکستانیوں کی طرح ٹیکسی چلا رہا تھا، اس کے علاوہ بھی ادھر ادھر منہ مارتارہتا تھا۔

اس سے فون پر گپ شپ ہوتی رہتی تھی۔ ایک دن میں نے اسے فون کیا اور کہا ’’یار عبدالرحمٰن ماچھی تم نے کبھی مجھے نیویارک آنے کی دعوت ہی نہیں دی‘‘ یہ سن کر اس نے کہا ’’ست بسم اللہ سر، جب مرضی آئیں، میرے پاس رہیں، آپ کو نیو یارک کی سیر کرائوں گا، مگر خدا کے لئے مجھے وہاں عبدالرحمٰن ماچھی نہ کہیےگا، اب میں چودھری عبدالرحمٰن ہوں‘‘۔

یہ سن کر میں نے بمشکل اپنی ہنسی پر قابو پایا اور کہا ’’یار ماچھی تو بہت اچھےلوگ ہوتے ہیں، دانے بھون کر بیچتے ہیں، میرے بچپن میں ان کی عورتیں گندھے ہوئے آٹے میں سے ایک پیڑہ یا دو پیڑے اجرت لے کر تنور میں روٹی لگا کر دیتی تھیں۔ یہ تو محنتی لوگ ہیں۔ حق حلال کی کھاتے ہیں‘‘ بولا ’’ٹھیک ہے سر، مگر اب میں عبدالرحمٰن چودھری ہوں‘‘۔ میں نے کہا ’’ٹھیک ہے چودھری صاحب‘‘۔

اس دوران بعد میں بھی اس سے بات ہوتی رہی اور میں اسے چودھری صاحب ہی کہتا رہا، جس پر وہ بہت خوش ہوتا تھا۔

ایک دن مجھے پتہ چلا کہ اسے امریکی پاسپورٹ مل گیا ہے اور اس نے حلف بھی اٹھا لیا ہے کہ ’’وہ ہمیشہ امریکہ کا وفا دار رہے گا اور اسے اگر کبھی اپنے سابقہ ملک کے خلاف بھی ہتھیار اٹھانا پڑے تو وہ اس سے گریز نہیں کرے گا‘‘۔ حلف اٹھانے، پاسپورٹ ملنے اور امریکی شہری بننے کے بعد ایک روز مجھے اس کا فون آیا۔ وہ بہت خوش تھا۔ کہہ رہا تھا ’’سر!میں امریکی شہری بن گیا ہوں، آپ بھی جتنی جلدی ہو اپلائی کریں اور پاکستانی پاسپورٹ کی بجائے امریکی پاسپورٹ لے لیں‘‘۔ میں نے کہا چودھری صاحب میرا تو یہاں رہنے کا کوئی ارادہ نہیں اور آپ مجھے امریکی شہری بنانا چاہتے ہیں‘‘۔ بولا ’’سر، پاکستان میں کیا رکھا ہے، دفع کریں، آپ واپس جا کر بہت پچھتائیں گے‘‘۔ میں نے کہا یار کوئی بات نہیں، میں نہیں چاہتا میری نسل میں کسی کا نام الیگزنڈر پیرزادہ یا کیتھرین پیرزادہ ہو!‘‘ یہ سن کر وہ چپ ہوگیا۔

میں پاکستان واپس آگیا، مگر عبدالرحمٰن ماچھی سوری عبدالرحمٰن چودھری سے فون پر میری گپ شپ جاری رہی۔ گزشتہ ہفتے اس کا فون آیا تو وہ بہت غصے میں تھا۔

اس نے کانپتی ہوئی آواز میں کہا ’’سر، پاکستان امریکی سازش کا شکار ہوگیا ہے، عمران خان کی حکومت ختم کردی گئی ہے اور امریکہ نے یہ کام غداروں، لیٹروں اور ڈاکوئوں کی مدد سے کیا ہے۔ آپ اس سلسلے میں کیا کر رہے ہیں؟‘‘ میں نے کہا یہ سب کام جمہوری عمل سے ہوا ہے اور امریکہ کا دور دور تک اس میں کوئی عمل دخل نہیں‘‘۔ یہ سن کر اس کا لہجہ ایک دم بدل گیا اور وہ جو زبان بولنے لگا میں اس سے اس کی توقع بھی نہیں کررہا تھا۔ وہ کہہ رہا تھا ’’اس کا مطلب ہے تم بھی غداروں کے ساتھ ہو، امریکی ایجنٹ ہو، لعنت ہے تم پر‘‘۔ میں نے بہت صبر سے کام لیتے ہوئے اس کی بدکلامی و الزام تراشی اور گھٹیا سوچ کو برداشت کیا اور کہا ’’سوری چودھری صاحب، مجھ سے غلطی ہوگئی، میں اس کی تلافی کرنا چاہتا ہوں‘‘۔

یہ سن کر وہ نرم آواز میں بولا ’’وہ کیسے؟‘‘ میں نے کہا ’’آپ ایک سچے محب وطن پاکستانی کے طور پر امریکی پاسپورٹ امریکہ کے منہ پر ماریں اور واپس پاکستان آکر امریکی سازش کے خلاف جدوجہد کریں۔ میں آپ کے کاندھے سے کاندھا ملاکر اس جدوجہد میں آپ کے ساتھ ہوں گا۔ یا چلیں رہنے دیں، وہاں صرف بیس پچیس پاکستانیوں کے ساتھ مل کر ایک جگہ جمع ہوں اور امریکہ مردہ باد کے نعرے لگائیں، آپ کی حب الوطنی پر مجھے کوئی شبہ نہیں۔ بس ایسا کرنے سے آپ کی حب الوطنی ہر قسم کے شک و شبہ سے بالا ہو جائے گی‘‘۔

یہ سن کر عبدالرحمٰن چودھری سابقہ عبدالرحمٰن ماچھی نے مجھے ایک گندی گالی دی اور فون بند کردیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں