پھلجھڑیاں

(گزشتہ سے پیوستہ)

گزشتہ روز ادیبوں کی بذلہ سنجیوں کے حوالے سے میرا کالم ’’پھلجھڑیاں‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا تھا، جس کا بہت زیادہ مثبت فیڈ بیک مجھے موصول ہوا اور یوں مجھے محسوس ہوا کہ میری طرح دوسرے پاکستانی بھی چوبیس گھنٹے ’’سیاست سیاست‘‘ کی گردان سے تنگ آئے ہوئے ہیں اور وہ منہ کا ذائقہ بدلنے کے لئے اس سے ہٹ کر بھی کچھ سننا اور پڑھنا چاہتے ہیں، چنانچہ انہی بذلہ سنجیوں کی ایک ’’لمبی قطار‘‘آپ کی منتظر ہے۔ سب سے پہلے مجھے سبی (بلوچستان) کا ایک مشاعرہ یاد آ رہا ہے اس کے ناظم ایک عجیب بغلول قسم کے انسان تھے، مشاعرہ ’’سیون اسٹار‘‘ تھا کہ اس میں فیض، ندیم، منیر، قتیل اور اس وقت کے (اور آج کے بھی) بہت بڑے بڑے شاعر مدعو تھے۔ مگر ناظم صاحب مشاعرے سے قبل ہی رننگ کمنٹری کرنے میں مشغول ہوگئے تھے۔ ’’سامعین، انتظار کی گھڑیاں ختم ہوگئیں، تھا انتظار جس کا وہ شہکار آ گیا۔ سامعین اس وقت شعرائے کرام کو پان کی گلوریاں پیش کی جا رہی ہیں۔ اس وقت پان کی ٹرے فیض صاحب کے سامنے ہے، اب ندیم صاحب کو گلوری پیش کی جا رہی ہے،اب منیر صاحب اپنا ہاتھ گلوری کی طرف بڑھا رہے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ میں نے یہ صورت حال دیکھی تو شبنم شکیل کے شوہر شکیل صاحب کو جو اس وقت بلوچستان میں صوبائی سیکرٹری تھے اور یہ مشاعرہ انہی کی ذاتی دلچسپی کے بدولت منعقد ہو رہا تھا، کہا کہ برادر اگر دوران مشاعرہ بھی ان صاحب کی اسی نوعیت کی کمنٹری جاری رہی تو سامعین کی طرف سے داد نہیں قہقہے سنائی دیں گے، آپ اسے مقامی شعرا ء تک قائم رکھیں مگر جب مہمان شعراء کا دور شروع ہو تو نظامت اس کی جگہ کسی معقول آدمی کے سپرد کردیں۔ چنانچہ ایسے ہی کیا گیا اور ناظم صاحب کو بتا دیا گیا کہ آپ صرف مقامی شعراء کا تعارف کرائیں گے، مہمان شعراء کا دور چلے گا تو یہ زحمت کسی اور صاحب کو دی جائے گی۔ اگر ادیب بذلہ سنج ہوتے ہیں تو بعض اوقات ان کے پڑھنے والے بھی کم بذلہ سنج ثابت نہیں ہوتے، چنانچہ اس بے ذوق سے انسان نے بھی اس صورتحال کا ایسا بدلہ لیا کہ اس کی زد میں آنے والے شعراء بھی اس کا مزہ اٹھانے سے محروم نہ رہے۔ جب مقامی شعراء کا دور ختم ہوا تو ان صاحب نے اعلان کیا کہ معزز سامعین میری نظامت صرف مقامی شعراء تک محدود تھی، اب مہمان شعراء کی نظامت کے لئے فلاں صاحب تشریف لائیں گے‘‘۔

جیسا کہ میں نے ابھی کہا ادیبوں، شاعروں کے علاوہ قارئین بھی بذلہ سنجی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ ایک مشاعرہ پنجاب آرٹس کونسل کے زیر اہتمام تھا۔ مشاعرے کے اختتام پر ایک نوجوان شاعر امجد اسلام امجد کے پاس آیا اور کہنے لگا ’’سر آپ کے پاس کنگھی ہوگی؟‘‘ امجد نے اپنے ’’ننگے‘‘ سر پر ہاتھ پھیرا اور خاموشی سے جیب میں سے کنگھی نکال کر اس کے حوالے کردی۔نوجوان نے کنگھی واپس کی تو امجد نے پوچھا ’’اتنے بالوں والے شاعر یہاں موجودتھے، مگر تم نے مجھ سے کنگھی مانگی۔ کیوں؟‘‘ نوجوان نے کہا ’’سر آپ کی کنگھی ذرا صاف ہوتی ہے‘‘۔ اسی مشاعرے کے اختتام پر گروپ فوٹو کے دوران ابوالاثر حفیظ جالندھری نے کیمرہ مین کو مخاطب کیا اور کہا ’’ میری فوٹو سوہنی جئی بنانا‘‘اس پر ظہو ر نظر کی رگ لطافت پھڑکی، انہوں نے حفیظ صاحب کو مخاطب کیا اور کہا ’’حفیظ صاحب آپ بھی کمال کرتے ہیں جو فرمائش اللہ سے کرنے والی تھی وہ آپ فوٹو گرافر سے کر رہے ہیں‘‘۔حفیظ صاحب سے یاد آیا کہ مشاعروں میں خود پر ہوٹنگ کا انتظام وہ خود کرتے تھے۔ ایک مشاعرے میں انہوں نے کلام سنانے سے پہلے سامعین پر دو چار جملے کسے، جس پر دوران مشاعرہ ایک سامع نے اپنی چادر کو سر پر دوپٹے کی طرح اوڑھا اور کسی تھیٹر کی حسینہ کی طرح ناچنا شروع ہوگیا۔ اس پر حفیظ صاحب نے اسے دیکھا اور بولے ’’برخوردار تم بہت سوہنے ہو، تمہارے انگ انگ سے جوانی پھوٹ رہی ہے، تم میں بہت کشش ہے، مگر افسوس برخوردار میں بوڑھا ہوگیا ہوں، تمہاری ادائوں کا جواب دینے کی پوزیشن میں نہیں ہوں‘‘۔ ایک دور میں پی ٹی وی پر نامور شخصیات کے انٹرویو کئے گئے جو آرکائیو کے لئے تھے اور اس شخصیت کی وفات کے بعد ٹیلی کاسٹ ہونا ہوتے تھے۔ حفیظ صاحب کا انٹرویو بھی ہوا، جب اختتام پر انہیں چیک دیا گیا تو انہوں نے چیک جیب میں ڈالا اور کہا ’’مجھے پتہ ہے تم نے یہ انٹرویو میری وفات پر چلانا ہے، مگر میری ایک بات سن لو ’’اور پھر انہوں نے حسب عادت ہوا میں اپنا انگوٹھا لہرایا اور کہا ’’میں نے مرنا ورنا کوئی نہیں‘‘۔

یہ رمضان کا مہینہ تھا ہم احمد ندیم قاسمی صاحب کے آفس میں بیٹھے تھے۔ ندیم صاحب اس وقت اسّی پلس تھے اور چائے پی رہے تھے۔ اتنے میں کسی نے پائوں کی ٹھوکر سے دروازہ کھولا اور ایک باریش صاحب جنہوں نےاچکن پہنی ہوئی تھی،سر پر دستار اور ہاتھ میں چھڑی تھی، اندر داخل ہوئے اور زور دار آواز میں ندیم صاحب کو مخاطب کرکے کہا ’’آپ اتنے بڑے شاعر ہیں، اتنے بڑے دانشور ہیں اور رمضان میں بیٹھے چائے پی رہے ہیں، آپ کوشرم آنی چاہیے‘‘۔ پھر ایک لمحہ کے لئے رکے اور ندیم صاحب سے کہا ’’آپ فوراً نائب قاصد کو اندربلائیں اور اسے کہیں کہ وہ ایک کپ چائے میرے لئے بھی لائے‘‘۔ بعد میں پتہ چلا کہ وہ ندیم صاحب کے کوئی پرانے دوست تھے۔ ایک بار ہوٹل کے ایک کمرے میں جس میں ہم نے مشاعرے کے بعد قیام کرنا تھا، میں اور امجد بیٹھے ایک دوسرے کے ساتھ جملہ بازی کر رہے تھے۔ سید ضمیر جعفری بیڈ پر آنکھیں موندے لیٹے تھے۔ کچھ دیر بعد انہوں نے آنکھیں کھولیں اور ہمیں مخاطب کرکے کہا ’’آج پتہ چلا کہ جب جملہ بازی کے لئے تمہیں کوئی تیسرا نہیں ملتا تو تم آپس میں نیٹ پریکٹس کرتے ہو‘‘۔ اس نیٹ پریکٹس کا جواب نہیں تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں