کچھ ہونے والا ہے!

سب پریشان ہیں۔ سب دیکھ رہے ہیں کہ ملک چل رہا ہے نہ نظام ۔ اس لیے ضروری سمجھا کہ اپنی فہم کے مطابق پاکستانی سیاست کے موجودہ تمام کرداروں کی سوچ اور کردار آپ کے سامنے رکھ دوں۔ حالانکہ یہ بڑا مشکل کام یوں ہے کہ ہر کردار کے ساتھ اپنا اپنا فارمولہ ہے۔

پہلے تذکرہ کرتے ہیں، اس اہم ترین طاقت ور ادارے کا، جس کے گرد سارے فارمولے گھومتے ہیں اور عمران خان کا اقتدار جس کے کمالات یا پھر خوش فہمیوں کا مرہون منت ہے۔

اس کردار نے پچھلے چار سال میں عمران خان کی خاطر جو کچھ کیا، اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ان کی پارٹی میں لوگ شامل کرائے، ان کو عدالتوں سے بچایا، ان کے مخالفین کو عدالتوں سے بے دست وپا کرایا۔ میڈیا کے ذریعے انہیں ہیرو اور ان کے مخالفین کو زیرو بناکے رکھ دیا۔

ایم کیو ایم اور پی ایم ایل (ق) کے ان سے جبری اتحاد کروائے ۔ غرض اس نے عمران خان کے لیے وہ کچھ کیا جو سگی ماں بھی بچے کے لیے نہیں کرسکتی۔ لیکن کپتان نے اپنے ’’کارناموں‘‘ سے انہیں اندرون ملک اور بیرون ملک بدنام کیا۔

اس ادارے نے ایک مشفق ماں کی مانند عمران خان کو مشورہ دیا کہ وہ ملک بچانے کی خاطر سیاسی مخالفین سے ذرا نرمی برتیں لیکن عمران خان کو اپنی بقا اس میں نظر آتی ہے کہ اپوزیشن اس ادارے کے ساتھ الجھی رہے۔ جب عمران خان کی گیم کو وہ سمجھ گئے تو اس ادارے نے زرداری اور شریفوں کو کچھ رعایتیں دیں جس پر عمران خان بھڑک اٹھے اور اس عمل کو سبوتاژ کیا۔ چنانچہ وہ پیچھے ہٹ گیا۔

اب وہ کھلی مداخلت کی بجائے صرف بچ بچائو کرارہا ہے۔ مثلاً کپتان چاہتا ہے کہ زرداری اور شہباز شریف اور جہانگیر ترین کو جلد ازجلد دوبارہ گرفتار کروالیا جائے لیکن وہ بچ بچائو کرارہا ہے۔اس ادارے کے ہاں تبدیلی آگئی ہے۔ وہ ہر وقت ہر فریق کو بار بار باور کرارہا ہے کہ وہ غیرجانبدار ہوگیا ہے لیکن کوئی فریق یقین کرنے کو تیار نہیں۔ حکومت ہو کہ اپوزیشن، اسے گزشتہ چار سال کے اس کے کردار کے تناظر میں دیکھ رہی ہے۔

جب کپتان دیکھتا ہے کہ وہ ادارہ گزشتہ چار سال کی طرح ڈنڈا اٹھا کر اس کے لیے عدلیہ، میڈیا اور سیاست کو ان کے حق میں استعمال نہیں کررہا تو اسے شک ہوجاتا ہے کہ اسے رخصت کیا جارہا ہے۔ دوسری طرف اپوزیشن سوچ رہی ہے کہ اگر واقعی وہ ادارہ غیرجانبدار ہوگیا ہے تو پھر عمران خان کو رخصت کرکے ہمارے سامنے تیار فارمولہ کیوں پیش نہیں کیا جارہا۔

تاہم ادھر موڈ یہ نظر آتا ہے کہ وہ عمران خان کی رخصتی میں حصہ ڈالنے کا تاثر دینا چاہتا ہے اور نہ اپوزیشن کے سامنے کبھی کوئی فارمولہ پیش کرے گا۔ ہاں البتہ اگر اپوزیشن رخصتی کا کوئی فارمولہ سامنے لے آئے تو شاید وہ ماضی کی طرح عمران خان کے لیے ڈھال نہ بنے۔ ایک طرف عمران خان بار بار اس ادارے کا دروازہ کھٹکھٹا رہا ہے اور دوسری طرف اپوزیشن بھی۔

اب دوسرے کردار یعنی پیپلزپارٹی کی طرف آتے ہیں۔ اس وقت زرداری صاحب اور بلاول صاحب مل کر ہمہ وقت مذکورہ گھر کے دروازے پر سوالی بن کر بیٹھے رہتے ہیں۔ وہ ہر طرح کی تابعداری کے لیے تیار ہیں لیکن پیپلزپارٹی کا مسئلہ یہ ہے کہ پنجاب میں حیثیت نہ ہونے کی وجہ سے وہ تنہا مسئلہ حل نہیں کرسکتی۔

اس کی خواہش ہے کہ پی ٹی آئی میں جو سینکڑوں لوگ عمران احمد خان نیازی کو چھوڑنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں، ان سب کو ان کے سپرد کیا جائے۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر اتنی تعداد میں پی ٹی آئی سے لوگ توڑے جاتے ہیں تو پھر خود پی ٹی آئی کے اندر سے کوئی اسد عمر جیسا وزیراعظم کیوں نہ بنایا جائے جو درپردہ اس مشن پر لگے ہوئے ہیں۔

نون لیگ ڈیل کی کوششوں میں بھی مصروف ہے لیکن اگر مگر سے بھی کام لے رہی ہے۔ اس خوف نے کہ کہیں عمران خان کو نئے آرمی چیف کی تقرری کا موقع نہ مل جائے، وہ انقلابی بیانیے کو دفن کرچکی ہے لیکن ایک تو گھر کے اندر کی کنفیوژن کو دور نہیں کرسکتی اور دوسرا انقلابی بیانیےکی وجہ سے شرما بھی رہی ہے۔ حالانکہ بڑے میاں صاحب بھی زرداری صاحب کی طرح وہ کچھ آفر کررہے ہیں، جو ان سے کسی نے مانگا نہیں لیکن ایک مسئلہ یہ ہے کہ وہ عدم اعتماد کے بعد فوری دوبارہ انتخاب چاہتے ہیں جبکہ زرداری صاحب فوری انتخاب سے ڈرے ہوئے ہیں، وہ چاہتے ہیں اور خود نظام لانے والے بھی چاہتے ہیں کہ عمران نیازی کے مائنس ہوجانے کے بعد اسمبلیاں اپنی مدت پوری کریں۔ تیسرے کردار مولانا فضل الرحمٰن ہیں۔

انہیں اور پی ڈی ایم میں شامل دیگر جماعتوں کو میاں نواز شریف نے اس بات پر قائل کرلیا ہے کہ وہ اسمبلیوں سے استعفوں پر اصرار نہ کریں کیونکہ ان کی بات بننے والی ہے اور اسمبلی کے اندر تبدیلی لائی جاسکتی ہے لیکن وہ تفصیلات شیئر کرنے کو تیار نہیں۔ یہی یقین دہانی مولانا کو بلاول اور زرداری بھی کرارہے ہیں لیکن کس سے، کس سطح کی بات ہوئی ہے، یہ وہ بھی نہیں بتا رہے۔

جواب میں مولانا نے بھی اپنے کارڈز سینے سے لگا کے رکھے ہیں۔ پیپلزپارٹی اور نون لیگ کے مابین کوئی متفقہ فارمولہ مولانا ہی سامنے لاسکتے ہیں لیکن جب وہ اپنے کارڈز اور حقائق ان کے سامنے رکھنے کو تیار نہیں تو پھر کیوں کر وہ کوئی فارمولہ بناسکیں گے ؟

چوتھے اور اہم ترین کردار عمران خان ہیں۔جب انہیں اندازہ ہوگیا کہ ماضی کی طرح ان کے لیے ادارے ڈھال بننے کو تیار نہیں تووہ حسبِ عادت بلیک میلنگ پر اتر آئے لیکن جب انہیں اندازہ ہوگیا کہ دوسرا فریق بلیک میل نہیں ہورہا تو یوٹرن لے کر وہ دوبارہ تابعداری کرنے لگے ہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ وہ بلیک میلنگ سے بھی باز نہیں آرہے ۔

ایک طرف اپنے وزیروں سے یہ پروپیگنڈا کروارہے ہیں کہ مسلم لیگ(ن) کے لوگوں کے ساتھ ملاقاتیں ہورہی ہیں اور دوسری طرف انہی کے ذریعے خلوتوں میں یہ تاثر پھیلایا جارہا ہے کہ جیسے ان سے کچھ مانگا جارہا ہے جو وہ تو نہیں دے رہے ہیں لیکن اپوزیشن دینے پر آمادہ ہوگئی ہے۔

مذکورہ تناظر میں دیکھا جائے تویہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ کوئی بھی یقین کے ساتھ پیشنگوئی کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ لیکن ایک بات یقینی ہے کہ یہ معاملہ زیادہ دیر اس طرح نہیں چل سکتا اور کچھ نہ کچھ ضرور ہوگا۔وجہ صاف ظاہر ہے ملک چل رہا ہے اور نہ نظام۔

اپنا تبصرہ بھیجیں