چور کی داڑھی میں تنکا

پہلے یہ طے کرلیں کہ امریکہ کو معاشی طور پر آزاد، ترقی یافتہ اور خوشحال پاکستان چاہئے یا بحرانوں کا شکار ایک محتاج پاکستان۔ظاہر ہے اسے ثانی الذکر پاکستان چاہئے۔

اب حقیقت یہ ہے کہ عمران خان نے اسے ملٹی نیشنل کمپنی کے سابق ملازم اسد عمر اور آئی ایم ایف کے کارندے رضا باقر کے ذریعے اسے معاشی طور پر تباہ کیا۔

عمران خان کے موجودہ وزیرخزانہ شوکت ترین خود یہ گواہی دے چکے ہیں کہ آئی ایم ایف کے ساتھ نہایت نامناسب شرائط پر معاہدہ کیا گیا۔

اسی طرح چین نہیں چاہتا تھا کہ سی پیک کے معاملات آئی ایم ایف اور اس کے ذریعے امریکہ تک پہنچیں لیکن آئی ایم ایف کی کنٹری ڈائریکٹر کا یہ ریکارڈ آن ریکارڈ ہے کہ عمران خان کی حکومت نے سی پیک کے سارے منصوبوں کی تفصیلات اس کے ساتھ شیئرکیں۔

آئی ایم ایف اور امریکہ کے کہنے پر ڈکٹیٹڈ قانون سازی ہوئی جس کی وجہ سے پاکستان کی معاشی مہار آئی ایم ایف کے ذریعے مکمل طور پر امریکہ کے ہاتھ میں چلی گئی۔ تواب کیا امریکہ کا دماغ خراب ہے کہ وہ عمران خان کو اقتدار سے نکلوانے کی سازش کرے؟

امریکہ افغانستان سے اس لیے نکلنا چاہتا تھا کہ ساری توجہ چین پر مرکوز کرسکے۔

بین الافغان مفاہمت سے قبل اس کے انخلا میں عمران خان نے نہ صرف تعاون کیا بلکہ اس کا کریڈٹ بھی لیتے رہے۔

امریکہ نہیں چاہتا تھا کہ سی پیک کا پروجیکٹ اس اسپیڈ سے آگے بڑھے جس طرح کہ چین اور پاکستان نے سوچا تھا۔

پروگرام کے مطابق چین کے صدر نے دوسرے مرحلے کے افتتاح کے لیے 2019 میں پاکستان آنا تھا لیکن عمران خان کی حکومت نے اپنی حرکتوں سے ان کو اتنا مایوس کیا کہ وہ ڈھائی سال سے پاکستان کے دورے پر نہیں آئے۔

پھر فوج نے کوشش کی کہ عمران خان وہاں کا دورہ کریں لیکن چین نے انہیں دو طرفہ دورے کی دعوت نہیں دی۔ جب وہ بیجنگ ونٹر اولمپک میں شرکت کے لیے جارہے تھے تو ان کی حکومت نے بھرپور کوشش کی سی پیک سے متعلق جے سی سی کا اجلاس ہوجائے لیکن عمران حکومت سے نالاں چینی حکومت نے ان کی حکومت کے ساتھ جے سی سی کا اجلاس وقت کا ضیاع جان کر اس کا موقع فراہم نہیں کیا۔

جہاں تک روس کے دورے کا تعلق ہے تو صرف دوروں سے امریکہ یا یورپ ناراض نہیں ہوتے۔ روس کا سب سے پہلا دورہ سابق صدر زرداری نے کیا تھا۔

اصل دورے ہمارے آرمی چیفس کے ہوا کرتے ہیں اور روس کا دورہ جنرل کیانی نے بھی کیا، جنرل راحیل شریف نے بھی کیا اور ابھی کچھ ہی روز قبل جنرل قمر جاوید باجوہ بھی روس کے دورے پر گئے تھے۔

امریکہ جیسی طاقتیں صرف دوروں سے ناراض نہیں ہوتیں۔ جب اسے پاکستان کی ضرورت تھی تو چین کے ساتھ ہماری قربت پر اسے کوئی اعتراض نہیں تھا۔

اب انڈیا امریکہ کا اسٹرٹیجک پارٹنر ہے اور چین کے مقابلے میں اسے اسی طرح استعمال کیا جائے گا جس طرح سوویت یونین کے خلاف پاکستان کو استعمال کیا گیا لیکن چینی قیادت انڈیا کا اور انڈیا کی قیادت چین کے دورے کرتی رہتی ہے۔

جہاں تک او آئی سی کا تعلق ہے تو اس فورم کو تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک موثر فورم شاہ فیصل اور ذوالفقار علی بھٹو نے بنایا تھا۔

بھٹو نے سربراہی اجلاس پاکستان میں منعقد کروایا تھا جبکہ حالیہ اجلاس وزرائے خارجہ کی سطح کا اجلاس تھا۔

یہ بائی روٹیشن ایک ایک ملک میں منعقد ہوا کرتا ہے 2019میں اس کا انعقاد یواے ای اور 2020 میں نائیجر میں ہوا تھا۔ اس بارپاکستان کی باری تھی لیکن اسے 2022تک کھینچا گیا۔

اس سے قبل پاکستان میں وزرائے خارجہ کی ہنگامی کانفرنس افغانستان کے باب میں ہوئی تھی، وہ سعودی عرب کی خواہش اور فرمائش پر ہوئی تھی کیونکہ اس کے ذریعے سعودی عرب افغانستان میں انٹری ڈال کر قطر اور ایران کا ہم پلہ بننا چاہتا تھا۔

اوآئی سی کا بنیادی لیڈر اور فنانسر سعودی عرب ہے اور اگر اوآئی سی کی وجہ سے امریکہ نے کسی حکومت کو گرانا ہوتا تو پھر تو اسے محمد بن سلمان کی حکومت کے خلاف سازش کرنی چاہئے۔

جہاں تک اسلاموفوبیا کا تعلق ہے تو اس کے خلاف موجودہ اسلامی حکمرانوں میں سب سے زیادہ آواز ترکی کے صدر طیب اردوان نے اٹھائی۔

کینیڈا اور نیوزی لینڈ کی قیادت بھی اس کے خلاف برسوں سے بول رہی ہے۔ اب اگر امریکہ نے اس بنیاد پر کسی حکومت کے خلاف سازش کرنی ہوتی تو وہ ترکی کے خلاف کرتا۔

سعودی عرب امریکہ کا سب سے قریبی اتحادی ہے تو کیا اس کی خواہش اور فرمائش پر چلنے والے اوآئی سی کے وزرائے خارجہ اجلاس پر امریکہ اتنا برہم ہوگا کہ وہ عمران خان کی حکومت گرانے کی سازش کرے گا؟ہم حکیم سعید کی کتاب میں عمران خان کے بارے میں دعوؤں سے بھی صرف نظر کرتے ہیں۔ ہم مولانا فضل الرحمٰن کے دعوؤں اور الزامات کو بھی بھلا دیتے ہیں۔

لیکن اب تو سید خورشید شاہ جیسے بلند قامت سیاستدان نے بھی میرے پروگرام ”جرگہ“ میں یہ دعویٰ کیا کہ امریکی صدر بش سینئر نے بے نظیر بھٹو سے کہا تھا کہ ہمارے بندے (عمران خان) کا خیال رکھنا۔

عمران خان کی کابینہ وہ واحد کابینہ ہے جس میں امریکہ اور برطانیہ سے آئے ہوئے مشکوک لوگ سب سے بڑی تعداد میں موجود ہیں۔

اگر واقعی امریکہ ان سے اتنا سخت ناراض تھا تو پھر انہوں نے کچھ عرصہ قبل امریکہ اور ایران کے مابین ثالثی کی پیشکش کس بنیاد پر کی تھی ؟ امریکہ ناراض ہے اور واقعی ناراض ہے لیکن وہ پاکستانی فوج اور اس کے اداروں سے ناراض ہے۔

اس کی دلچسپی کے جو ایشوز (افغانستان، انڈیا اور چین وغیرہ) ہیں ان میں عمران خان کا کوئی کردار نہیں۔عمران خان ان حالات میں امریکہ اوریورپ کے خلاف بیانات دے کر اصل میں فوج کی مشکلات بڑھانا اور بلیک میل کرنا چاہتے ہیں۔

امریکی اس حقیقت کو بخوبی جانتے ہیں اور ان حالات میں کیا امریکہ کا دماغ خراب ہے کہ وہ عمران خان کے خلاف سازش کرے؟ ہمیں تو ہر حوالے سے معاملہ الٹ نظر آتا ہے۔

میں جانتا ہوں تو اس وقت پاکستان میں اگر کوئی عمران خان کے اقتدار کا سب سے بڑھ کر متمنی ہے تو وہ امریکہ ہے اور اگر کسی ملک کے لیے وہ بوجھ بنے ہوئے ہیں تو وہ چین ہے لیکن چین کا یہ اصول رہا ہے کہ وہ کبھی پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں