“THE DEAD NATIONS”

احمد فراز مرحوم کے بے شمار زندہ شعروں میں سے ایک یہ بھی ہے:

اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں

جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں

چند روز قبل مجھے انگریزی نظموں پر مشتمل ایک خوب صورت مجموعہ یعنی دیوان موصول ہوا جس کا عنوان تھا “PETALS IN MY DIARY” اور پھر جب شاعرہ کا نام دیکھا تو مسکرا دیا۔ نام تھا ’’عائشہ منظور وٹو‘‘ ۔ میں تھوڑا کنفیوژ، تھوڑا حیران ہوا کہ وٹوؤں کی بیٹیاں بھی شاعریاں کررہی ہیں اور وہ بھی انگریزی میں۔ یقین نہیں آیا کہ میاں منظور وٹو کے ساتھ کبھی میری جان پہچان رہی ہے اور یہ میں ہی تھا جس نے 138۔اے ماڈل ٹائون والے گھر میں اپنے بےحد پیارے لیجنڈ عباس اطہر المعروف شاہ جی کی ان کے ساتھ صلح کرائی تھی۔ تفصیل میں گیا تو کنفرم ہو گیا کہ یہ بہت ہی خوبصورت شاعرہ عائشہ انہی کی صاحب زادی ہیں۔ مزید تفصیل میں گیا تو خوشگوار حیرت کا سامنا کرنا پڑا کہ وہ صرف ’’دنیا دار‘‘ منظور وٹو، سابق وزیراعلیٰ پنجاب کی بیٹی ہی نہیں چھوٹے بھائیوں جیسے انتہائی باوقار اور وضعدار بلال ورک کی اہلیہ بھی ہیں جو جانے کتنی بار اسمبلی کے ممبر بھی رہ چکے۔

میرا بچپن سے ایک پرابلم ہے جو میرے باپ دادا کا ورثہ ہے کہ میں ’’کتاب‘‘ کی بہت عزت کرتا ہوں بلکہ ہر ’’پرنٹڈ ورڈ‘‘ میرے لئے انتہائی محترم ہوتا ہے سو ایک دو، دن کے بعد میں نے “PETALS IN MY DIARY” کو ’’دیکھنا‘‘ شروع کیا تو اس مختصر اور معصوم سی کتاب کو باقاعدہ پڑھنے پر مجبور ہو گیا کہ ’’دیکھنے‘‘ اور ’’پڑھنے‘‘ میں زمین و آسمان کا سا فرق ہوتا ہے۔

یہ پانی خامشی سے بہہ رہا ہے

اسے دیکھیں کہ اس میں ڈوب جائیں

دیکھنے اور پڑھنے میں وہی فرق ہے جو سطح آب کو دیکھنے یا اس میں ڈوب جانے میں ہے۔ انگریزی نظموں کا یہ مجموعہ دیکھنے کے لئے نہیں ڈوب جانے کے لئے ہے لیکن انسانوں کی اکثریت ’’ڈوبنا‘‘ نہیں بلکہ تیرنا اور پار اترنا چاہتی ہے۔ شاعرہ عائشہ دیباچہ میں کہتی ہیں ’’ہر نظم کے پیچھے ایک کہانی ہے‘‘۔ میں خود صاحبِ دیوان شاعر اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ ہر شعر کے پیچھے ایک کہانی ہوتی ہے اور یہ کہانی اپنی بھی ہو سکتی ہے، اپنوں کی بھی، غیروں کی بھی اور کسی معاشرے کی بھی۔

اور اب چند نظمیں۔ عنوان ہے

“BE FREE”

SUN HAS SET

IN MY HEART A SLOW MURMUR

I CAN HEAR

SAYS ….. YOU ARE YOUR ONLY BOUNDARY

BREAK YOUR HEART BREAK YOURSELF TO REACH YOURSELF

BE FREE OF YOURSELF

اک اور خوب صورت مختصر سی نظم کا عنوان ہے “BURN SLOWLY”

ON THE FLAME OF LIFE

IN THE WARMTH OF LOVE

BURN SLOWLY

FOR YOUR DREAMS AND HOPES

MAY BREAK

AND YOU MAY NEVER BE THE SAME AGAIN

SO

BURN SLOWLY

شاعری کسی بھی زبان میں ہو، جان جوکھوں کا فل ٹائم کام ہے جو ہر کسی کے بس کی بات نہیں ورنہ میں یہ بھاری پتھر چوم کر نہ چھوڑ دیتا۔ اس مختصر ترین نظم کا عنوان ہے “LET IT FLOW”

“LET IT FLOW

LET IT GO

WITHIN THIS SHATTERED AND NAIVE SELF THERE’s ANOTHER YOU

FIND YOU

WITHIN YOU

اور اب آخر پہ “THE DEAD NATIONS”

“HALF ASLEEP

HALF IN DENIAL

THE UNSEEN TERMITE HAVE PUT

THE POOR ON TRIAL

TELL THE MERCY WINDS DO NOT COME HERE

OUR LAND HAS BECOME TOO FRAGILE

SPEECHLESS PUPPETS ARE SCARED AND WATCHING

WHILE JOCKERS ARE DANCING ON THEIR OWN LIES.”

اپنا تبصرہ بھیجیں