سر ہوتے ہیں دستاروں میں

یہ کوئی نغمہ ہے، نوحہ ہے، مرثیہ ہے، کیا ہے؟

یہ میرے لئے ہے، آپ کے لئے ہے، ہم سب کے لئے ہے، حکمرانوں کے لئے ہے یارب العالمین کے حضور کوئی درخواست ہے؟ یاد آیا کہ مظلوم کی آہ اور اللّٰہ کے درمیان کوئی رکاوٹ نہیں تو ہمارے ساتھ ہمارے ارد گرد جو کچھ ہو رہا ہے، کہیں ایسی ہی آہوں کا جواب تو نہیں کیونکہ عذاب کئی شکلوں اور رنگوں میں آتے ہیں۔

ایک طرف اس قسم کی آزاد بلکہ مادر پدر آزاد شاعری ہو رہی ہے، نثری نظمیں لکھی جا رہی ہیں۔ چند نمونے حاضر ہیں۔

’’گریبان پکڑنے کا وقت آگیا‘‘

’’ہمارا حال تباہ کرنے والا جانے کی تیاری کرے‘‘

’’مقابلہ سیاسی بونوں سے۔ جلد وہیل چیئرپر ہوں گے‘‘

’’پنجاب میں بلدیاتی الیکشن کی نگرانی خود کروں گا‘‘

اور اس سب کے مقابل اک نوحہ، نغمہ، مرثیہ جس کا ذکر میں نے کالم کے شروع میں کیا۔ اک عورت اک مرد، دو مفلوک الحال یعنی اصلی پاکستانی سڑک کے ساتھ والی سروس لین پر جارہے تھے اور کچھ اس طرح کا گیت گارہے تھے۔ سڑک کا نام ہے ’’شاہراہ پاکستان‘‘ جو نہر سے واپڈا ٹائون کی طرف جاتی ہے۔ گیت مجھے پوری طرح یاد نہیں۔ جتنا جس ترتیب کے ساتھ یاد رہ گیا . . . . پیش کر رہا ہوں۔

’’سانوں دُر دُر کردے

لوکی رب توں نئیں ڈر دے

اسیں جیوندے آں ناں مَر دے

اسیں ڈب دے آں ناں تر دے

ناں ساڈا گھر بار، ناں کوئی غم خوار

ناں کوئی چوکیدار، ناں کوئی سردار‘‘

ڈھیلا ڈھالا اردو ترجمہ :

’’لوگ ہمیں دھتکارتے ہیں

یہ رب سے بھی نہیں ڈرتے

ہم نہ جیتے ہیں نہ مرتے ہیں، نہ زندوں میں نہ مردوں میں

ہم نہ ڈوب رہے ہیں نہ تر رہے ہیں یعنی نزع کے عالم میں ہیں

نہ ہمارا کوئی گھر بار ہے نہ غمخوار ہے

نہ کوئی ہمارا محافظ ہے نہ سردار، ہم بالکل لاوارث ہیں‘‘

’’روٹی کپڑا مکان‘‘ سے لے کر ’’دو نہیں ایک پاکستان‘‘ اور 36،36 ڈشوں والی شرافت کی سیاسی دکان تک یہ ہے وہ اصلی پاکستان جو عشروں پہلے دو لخت ہوا۔ علیحدگی، بٹوارے یاسقوط کے وقت یعنی 1971ء میں مشرقی پاکستان حال بنگلہ دیش کی آبادی 6کروڑ 50 لاکھ تھی اور مغربی پاکستان حال ٹوٹل پاکستان کی آبادی 5 کروڑ 80 لاکھ تھی۔ آج بنگلہ دیش کی آبادی16 کروڑ 70 لاکھ ہے اور سالانہ فی کس آمدنی ہے 2554 ڈالر جبکہ آج اسلامی جموریہ پاکستان کی آبادی 22کروڑ 71 لاکھ ہے (چشم بددور) اور سالانہ فی کس آمدنی ہے 1543 ڈالر اور بنگلہ دیشی کرنسی ’’ٹکے‘‘ کے سامنے روپیہ ٹکے ٹوکری ہو چکا ا ور سفر ابھی جاری ہے۔ 70-69 ء کا زمانہ مجھے یاد ہے، بنگالی ہاسٹل فیلوز سے جب بھی مشرقی پاکستان کی آبادی کے حوالے سے بات ہوتی تو مقامی لڑکے بنگالیوں کو چھیڑا کرتے کہ تم لوگوں کو آبادی میں اضافہ کے علاوہ کوئی کام نہیں؟

ہم نے یورپ، امریکہ، کینیڈا، جاپان، چین کے ساتھ تو کیا مقابلہ کرنا تھا، اپنے ہی بنگلہ دیش سے بھی پیچھے رہ گئے جنہیں کیبنٹ میٹنگز میں ہمارے مونچھوں اور توندوں والے ’’قائدین‘‘ بھی جگتیں مارا کرتے تھے۔ قدرت اللّٰہ شہاب نے اپنی کتاب میں ایک ’’دلچسپ‘‘ واقعہ لکھا کہ امریکہ نے پاکستان کو تحفہ کے طور پر سینیٹری کا سامان بھیجا جس میں ظاہر ہے کموڈ وغیرہ شامل تھے۔ کابینہ کے اجلاس میں کسی بنگالی وزیر نے کہا اس سامان میں سے ہمیں بھی کچھ عطا ہو تو ہمارے ’’قائدین‘‘ نے کورس میں قہقہہ لگاتے ہوئے ارشاد فرمایا ’’تمہارے لئے تو کیلوں کی گاچھ ہی کافی ہے‘‘ یعنی تم لوگ کیلے کے درختوں کے جھنڈ کی اوٹ سے ہی کام چلا سکتے ہو، کموڈ تمہارے کس کام کے؟

اب بنگالی نہیں رہے تو ایک دوسرے کی پگڑیوں سے رانجھے راضی کر رہے ہیں اور دوسری طرف گدا گروں کی جوڑیاں سڑکوں پر ’’ملی نغمے‘‘ گا رہی ہیں۔ لیکن تاتاریوں کے زمانے والے اہل بغداد کی طرح ہم اور ہی قسم کے ’’مسئلوں‘‘ پر گفت و شنید میں مصروف ہیں۔ 74 سال ہوگئے مونچھیں کترنے تراشنے والی قینچیوں سے بدی کے تناور درخت کی شاخیں چھانگ رہے ہیں، جڑیں کاٹنے کی طرف کسی کا دھیان نہیں جاتا۔ مجال ہے جو کسی مچھندر کے منہ سے بے تحاشا بڑھتی آبادی بارے دو بول ہی سنے ہوں۔ کچھ اور نہیں کرسکتے تو آبادی ہی کنٹرول کر لو لیکن نہیں کیونکہ یہ مخلوق ہی نرالی ہے۔ انہیں ایک دوسرے کے گریبان پھاڑنے اور پگڑیاں اچھالنے کے علاوہ اور کچھ سوجھتا ہی نہیں ورنہ سرجوڑ کے بیٹھتے لیکن خالی سر جوڑ بھی لئے جائیں تو کیا۔ شاید قاسمی صاحب نے انہی لوگوں کے لئے ہی کہا تھا۔

آپ دستار اتاریں تو کوئی فیصلہ ہو

لوگ کہتے ہیں کہ سر ہوتے ہیں دستاروں میں

اپنا تبصرہ بھیجیں