تماشا ختم ہونے کو ہے !

جوانی میں کچھ اور مشاغل تھے، ادھیڑ عمری کے شوق کچھ اور تھے اور اب لے دے کہ نیوز چینلز اور سیاسی پیش گوئیاں کرنے والے ای لاگ اور بلوگ رہ گئے تھے مگر ان سے بھی جی اچاٹ ہوگیا ہے۔ مجھے یہ فکر نہیں کہ اب سیاسی کھیل تماشہ دیکھنے کی خواہش بھی میرے اندر دم توڑ چکی ہے بلکہ خوف یہ ہے کہ ایک ’’اطلاع کے مطابق‘‘ وفات سے قبل دنیا کی ہر چیز سے انسان کا جی اچاٹ ہو جاتا ہے مگر سچی بات پوچھیں تو مجھے فوت ہونے پر بھی کوئی اعتراض نہیں، یہ کون سی کوئی انوکھی بات ہے فوت تو وہ بھی ہوتے رہے ہیں جو سمجھتے تھے کہ وہ مافوق الفطرت مخلوق ہیں اور زمین زادوں پر حکومت کرنے کے لئے پیدا ہوئے ہیں چنانچہ وہ موت کو بھی اپنے تابع سمجھتے تھے ۔بادشاہوں کے زمانے میں کچھ بادشاہ تو اپنی بادشاہی سوچ کے مطابق سمجھتے تھے کہ وہ زمین پر اپنے محل میں سے صرف زیر زمین ایک اور محل میں منتقل کئے جا رہے ہیں چنانچہ ان کے ساتھ ان کی کنیزیں، ان کے غلام ان کے مصاحبین اور ان کے جلاد، ہیرے جواہرات اس ’’نئے محل‘‘ میں دفن کر دیئے جاتے تھے کہ ممکن ہے بادشاہ سلامت کو کبھی کسی کنیز سے ٹانگیں دبوانا پڑ جائیں کسی جلاد کو کسی کا سر تن سے جدا کرنے کا حکم دینا پڑے ،کسی کا منہ ہیرے موتیوں سے بند کرناپڑے، چنانچہ یہ سب لوازمات ان کے ’’زیرِ زمین محل‘‘ میں ان کے ساتھ جاتے تھے مگر وائے افسوس یہ خیال ’’محال وقت و جنوں‘‘ کی ذیل ہی میں شامل رہا !

انسان میرے جتنا باتونی بھی نہ ہو بات کہاں سے شروع ہوئی تھی اور اسے کھینچ تان کر کہاں سے کہاں لے گیا۔میں آپ کو بتانا چاہ رہا تھا کہ صبح پہلے بلیٹن سے حکومت کے خلاف عدم قرار داد کی بات شروع ہوتی ہے اور رات گئے تک اس کی تکرار ہوتی رہتی ہے جب قرارداد کے حق میں ووٹ ڈالنے والوں کے نام لئے بغیر یہ ’’خوشخبری‘‘ سنائی جاتی ہے کہ اب مطلوبہ تعداد پوری ہو گئی ہے چنانچہ جی کاجانا ٹھہر گیا ہے صبح گیا یا شام گیا مگر صبح کو حکومت کے جن اتحادیوں سے ملاقاتیں کی گئی ہوتی ہیں اور توقعات کی سطح کافی بلند ہو جاتی ہےتو اسی شام ہی کو ان اتحادیوں میں سے کوئی بول اٹھتا ہے کہ سرکار ہم آپ کا ساتھ نہیں دے سکتے ہم سرکار کے ساتھ ہیں اور جب آپ سرکار ہوں گے ہم آپ کے ساتھ ہوں گے !

اس کے علاوہ ایک دوسرا راگ جو صبح سے رات گئے تک نیوز چینلز پرسنائی دیتا ہے وہ کرپشن کا راگ ہے، حکومت اپنے ہر مخالف کے حوالے سے کرپٹ، چور، ڈاکو اور لٹیرا ہونے کا راگ قوالی کی صورت الاپتی رہتی ہے، پہلے بھی یہ القاب کچھ رہنمائوں کو ’’الاٹ ‘‘کیے گئے تھے مگر وہ پی ٹی آئی میں شامل ہوگئے اور انہیں وزیر مشیر بنا دیا گیا اب یہی ’’نہائے دھوئے‘‘ لوگ انہیں کرپٹ کرپٹ کہتے چلے آ رہے ہیںجن پر ’’بدعنوان عدلیہ ‘‘ کی وجہ سے کرپشن کا کوئی الزام بھی ثابت نہیں ہوا مگر اس کے باوجود انہیں جیل کی سختیاں جھیلنا پڑیں۔ ایک طرف یہ سب کچھ ہو رہا ہے اور دوسری طرف عوام مہنگائی کے ہاتھوں زندگی سے بیزار نظر آتے ہیں ۔سڑکیں بھکاریوں سے بھر گئی ہیں اور اب تو کچھ بھکاری ہاتھا پائی پر بھی اتر آتے ہیں میں نے گزشتہ روز ایک بھکاری کی ویڈیو دیکھی جس میں وہ پوری لجاجت سے کار میں بیٹھے ایک صاحب بہادر سے کہہ رہا تھا کہ اسے سامنے والے تندور سے روٹی کھلا دی جائے ۔ٹریفک سگنل کے سبزہونے تک جب بھکاری کی آہ وبکاہ کا کوئی اثر نہ ہوا تو بھکاری کا لجاجت بھرا چہرہ غصے سے تمتما اٹھا اور اس نے ایک زور دار تھپڑ صاحب بہادر کے رخ انور پر پوری طاقت سے مارا اور پھر وہاں سے بھاگ گیا!

یاد رکھو اے صاحبانِ اختیار اگر حالات ایسے ہی رہے تو اِس تھپڑ کو انقلابِ فرانس کا پہلا تھپڑ سمجھ لیں !

اور اب آخر میں افتخار عارف کی شعری تخلیق ’’ تماشا ختم ہونے کو ہے‘‘ پڑھیں اور یقین جانیں ایسا ہونے کو ہے !

بکھر جائیں گے ہم کیا جب تماشا ختم ہوگا

مرے معبود آخر کب تماشا ختم ہوگا

چراغ حجرہ درویش کی بجھتی ہوئی لو

ہوا سے کہہ گئی ہے اب تماشا ختم ہوگا

یہ سب کٹھ پتلیاں رقصاں رہیں گی رات کی رات

سحر سے پہلے پہلے سب تماشاختم ہوگا

کہانی آپ الجھی ہے کہ الجھائی گئی ہے

یہ عقدہ تب کھلےگا جب تماشا ختم ہوگا

تماشا کرنے والوں کو خبر دی جا چکی ہے

کہ پردہ کب گرےگا کب تماشا ختم ہوگا

دلِ نامطمئن ایسا بھی کیا مایوس رہنا

جو خلق اٹھی تو سب کرتب تماشا ختم ہوگا

اپنا تبصرہ بھیجیں