عالمِ اسلام اور صیہونیت (قسط2:)

کچھ باتیں جو ذہنوں میں راسخ رہیں تو بہتر ہوگا۔

دنیا کی بیشتر ایجادات یہودیوں کی مرہونِ منت ہیں اور اُس سے بھی کہیں زیادہ اہم یہ ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ میڈیا سے لے کر دنیا کے سیاسی اور مالیاتی نظام بلکہ نظاموں کے ماسٹر مائنڈ بھی صرف اور صرف یہودی ہیں۔ دنیا میں کوئی غیرصہیونی یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ وہ عہدِحاضر کے انتہائی پیچیدہ اور کثیرالچہرہ مالیاتی نظام کے ہر شعبہ کو بخوبی سمجھتا اور اس پر مکمل گرفت رکھتا ہے۔ یوں سمجھ لیجئے کہ جیسے سپیشلسٹ ڈاکٹر ہے جو کسی ایک عضو کے بارے میں تو بہت کچھ جانتا ہے لیکن باقی تمام جسم کے بارے میں تقریباً بےخبر ہے۔ یقین مانیں کہ آج کی دنیا کا مالیاتی نظام بھی مکمل طور پر صرف وہی جانتے ہیں جنہوں نے اسے دنیا پر مسلط کیا ہے اور یہ حربہ یا ہتھیار اس قدر ہولناک ہے کہ ہمارے سیاسی للو پنجو اور جمہوری ماجھے گامے یا غلامی سے نجات کے احمق دعویدار اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ یہ کتنا سیریس اور بھیانک معاملہ ہے اور پوری دنیا پر اِس کے کنٹرول یا کمانڈ کا کیا عالم ہے؟ اسے مندرجہ ذیل چند سطروں کی مدد سے سمجھنے کی کوشش کیجئے … بشرطیکہ اللہ توفیق عطا فرمائے۔

زمانہ وہ ہے جب برطانیہ سپرپاور تھاBaron Nathan Rothschild نے 1838میں بےحد حقارت سے سو فیصد سچائی بیان کی تھی جب اس نے یہ تاریخی جملہ کہا…

” I care not what puppet is placed on the throne of England to rule the empire…….. The man that controls Britain’s money supply controls the British empire and I control the money supply.”

”مجھے اس کی قطعاً کوئی پرواہ نہیں کہ کون سی کٹھ پتلی برطانیہ عظمیٰ پر حکومت کرنے کے لئے برطانوی تخت پر سجائی گئی ہے۔ برطانیہ پر حکومت اس کی ہوتی ہے جس کے ہاتھ میں برطانیہ کا مالیاتی کنٹرول ہو اور وہ میں ہوں جس کے ہاتھوں میں برطانوی راج کا مالیاتی کنٹرول ہے۔“ (راتھ شیلڈ 1838)۔

آج پوری دنیا کا مالیاتی کنٹرول کن کے ہاتھوں میں ہے؟ کچھ ہوش بھی ہے یا نہیں؟ یہ جو دن رات چلاتے رہتے ہیں کہ… ”ہمارے خلاف سازش ہو گئی“ تو ان بڑھک بازوں کے بڑوں کو بھی علم نہیں کہ ”سازش“ ہوتی کیا ہے؟ کی کس نے ہے؟ اور اس کی نوعیت کیا ہے؟ کیا کبھی اس تاریخی تھیسز پر بھی غور کیا کہ صلیبی جنگوں کے پیچھے صہیونی ہاتھ تھا؟

کیا کبھی سوچا کہ ”گولڈ سٹینڈرڈ“ کس نے متعارف کرایا اور پھر اس کے ساتھ کیسی ٹمپرنگ کی اور کاغذی کرنسی سے پلاسٹک کرنسی تک کی تاریخ کیا ہے اور کیوں ہے؟

اور کیا تمہیں خبر ہے کہ آج کا ہالی وڈ کبھی سنگتروں کے باغات پر مشتمل تھا اور یہاں کی زمینیں کن لوگوں نے خریدیں؟ عظیم الشان سٹوڈیوز بنائے تو اس کاروباری سرگرمی کے پیچھے ان کے دیگر مقاصد کیا تھے؟

ملٹی نیشنل کمپنیاں ہوتی کیا ہیں؟ چلتی کیسے ہیں؟ کرتی کیا ہیں؟ اور آج کی دنیا میں ان کا کردار کیا ہے؟… ایک جملہ چکھو اور پھر اس کا زہر اپنی روحوں میں محسوس کرو۔ کیا کبھی تمہارا دھیان اس طرف گیا کہ کسان تمہارا، دھرتی تمہاری، پانی تمہارا لیکن بیج ان کا، کھاد ان کی، کیڑے مار دوائیں ان کی اور کسان کو قیمتی مشورے بھی ان کے، تو کیا تم اس جگاڑ کے انجام سے واقف ہو؟؟؟ ذہن ہی نہیں زمینیں بھی بنجر۔

امریکہ کی غلامی، ڈرون حملے، نیٹو سپلائی، غیرت پریڈ، ٹیڑھی میڑھی انگلیوں سے وکٹری کے جھوٹے نشان، مصنوعی ملین مارچ اور بس باقی ٹائیں ٹائیں فش۔ یہ تو اتنا بھی نہیں جانتے کہ غلام کس کے ہیں؟ آقا کون ہے؟ اور کب سے کیا کچھ کر رہے ہیں۔

1095سے 1271تک کون آپس میں لڑتے رہے اور کرۂ ارض کی وہ کون سی کمیونٹی تھی جو انتہائی امیر اور دولت مند تھی؟

دنیا کی رگوں میں سود کا اندھیرا کس نے اتارا؟ اور کیا یہ 1830نہیں تھا جب عیسائی پادریوں نے پہلی بار چھوٹی شرح کے سود کو قانونی طور پر قبول کیا؟ اور پھر باقاعدہ چل سو چل…

ولیم گیکر (1895تا1959) بنیادی طور پر نیول کمانڈر لیکن دانشور آدمی تھا۔ اُس نے یہودیوں کے اعمال، کرتوتوں، منصوبوں پر طویل ریسرچ کے بعد ایک کتاب لکھی جس کا عنوان تھا… “Pawns in the game” وہ صہیونیوں کو بنی نوع انسان کا ”شیطانی ٹولہ“ قرار دیتا ہے۔ یاد رہے کہ ہر یہودی صہیونی نہیں ہوتا لیکن ہر صہیونی یہودی ضرور ہوتا ہے۔ راتھ شیلڈ اِس کا پس منظر بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے۔ ایک یہودی سنار امثل 1750 میں فرینکفرٹ (جرمنی) میں آباد ہوا تو اس نے اپنی دکان کے آگے A red shield (سرخ ڈھال) کا بورڈ آویزاں کیا۔ چند سال بعد اس کی موت پر اس کے بیٹے امثل میئر راتھ شیلڈ نے ان الفاظ کے جرمن متبادل کو لے کر اپنی دکان کا نام House of Roth shildرکھا۔ 1812میں اس کی وفات پر اس کے پانچ بیٹوں میں سے ناتھن انتہائی ذہین اور قابل نکلا۔ 21سال کی عمر میں وہ انگلینڈ چلا گیا تاکہ بینک آف انگلینڈ میں اثر و رسوخ پا کر اپنے بھائیوں کے تعاون سے یورپ میں ایک خودمختار بین الاقوامی بینک قائم کر سکے۔ صرف 30سال کی عمر میں اس نے بارہ امیر اور بااثر ترین یہودیوں کے ساتھ میٹنگ کی جس کا مرکزی خیال یہ تھا کہ وہ سب اپنے وسائل و ذرائع کو یکجا کرنے پر رضا مند ہوں تو پوری دنیا کی دولت، قدرتی ذرائع اور انسانی طاقت کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے اور آج حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنا ہدف حاصل کر چکے ہیں اور اسی لئے پچھلی قسط میں، میں نے امریکہ کو ”مظلوم“ اور سفید امریکنوں کو ”وائٹ نیگروز“ لکھا تھا۔ (جاری ہے)

اپنا تبصرہ بھیجیں