عالم اسلام اور صیہونیت

یہ ایسے اہرام ہیں جن کی بنیادیں نمک کی ہیں، یہ ایسے جنگجو ہیں جن کے گھوڑے حنوط شدہ یعنی مردہ، جن کی کمانیں کنیر کی شاخوں سے بنائی گئی ہیں اور تیر مہندی کی شاخوں سے تراشے گئے، ان کی ڈھالیں تربوز کی کھالیں اور زرہ بکتر قربانی کے جانوروں کی کھالوں سے تیار ہوئی ہے، ان کے نیزے بید کی لچک دار لکڑی سے گھڑے گئے اور تلواریں پاپولر نامی درخت سے بنوائی گئی ہیں جس کی لکڑی عموماً خلال اور ماچس کی تیلیاں بنانے کےلئے استعمال ہوتی ہے اور یہ آکٹوپس کی غلامی سے نجات چاہتے ہیں۔

یہ دراصل کچھ ایسا ’’مائنڈ سیٹ‘‘ ہے جن کی عقلیں بہت چھوٹی لیکن زبانیں بہت لمبی ہیں۔ ان کی بودی بڑھکیں سن کر مجھے وہ کیوٹ سا چوہا یاد آتا ہے جو غلطی سے شراب کے ڈرم میں گر گیا اور ڈبکیاں کھانے لگا کہ اتفاقاً بروری کے کسی ملازم کی نظر پڑ گئی تو اس نے ’’انسانی ہمدردی‘‘ کے تحت اس کی زندگی بچانے کے لئے اسے دم سے پکڑ کر باہر پھینک دیا۔ کچھ دیر بعد چوہے کو تھوڑی سی ہوش آئی تو وہ جھومتا جھامتا اپنے گھر کی طرف روانہ ہوا۔ رستے میں اسے ایک وحشی جنگلی بلی دکھائی دی جو گہری نیند سو رہی تھی۔ نشے میں دھت چوہے نے حقارت سے خونخوار بلی کو دیکھا اور پھر ٹھڈا مارتے ہوئے چلایا. . . .

’’اٹھ نرگس! شیر گجر تیرا مجرا سننے آیا ہے‘‘

انہیں اصل کہانی کی سمجھ ہی نہیں آ رہی کہ امریکہ اور امریکن تو خود ’’مظلوم ترین‘‘ مخلوق ہیں۔ یہ نہیں جانتے کہ امریکہ میں سفید امریکن بھی ’’وائٹ نیگرو‘‘ سے زیادہ کچھ نہیں کیونکہ امریکہ کی ’’سپر پاوری‘‘ کے پیچھے دست ستم، دست علم اور دست ہنر کسی اور کا ہے، جو دنیا میں اسی تناسب سے ہیں جس تناسب سے آٹے میں نمک اور دھرتی پر خشکی ہوتی ہے۔ اشارہ میرا یہودیت کی طرف نہیں کہ عام یہودی بھی معصوم ہے، میرا اشارہ صیہونیت کی طرف ہے جس نے ساری جدید دنیا کو اپنے شکنجے اور پنجے میں اس طرح جکڑ رکھا ہے کہ وہ بیچاری پھڑ پھڑا بھی نہیں سکتی۔ کیا جہالت کے یہ امام جانتے ہیں کہ عصر حاضر کا سیاسی اور مالیاتی نظام کس نے ’’ایجاد‘‘ اور وضع کیا؟ اور وہی اسے کنٹرول کر رہے ہیں۔ جن کم بختوں کو مرض کا ہی علم نہیں وہ علاج خاک کریں گے۔ دشمن مغرب میں تم مشرق میں ڈھونڈ رہے ہو، دشمن اوپر تم پاتال میں ڈھونڈ رہے ہو، دشمن مکمل اندھیرے میں تم روشنی میں ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہو۔ صیہونیوں کے ’’پروٹوکولز‘‘ہی پڑھ لو ظالمو! اور اس کھیل کی وہ تاریخ جو ریکارڈ پر موجود ہے، کہو تو میں ’’خلاصہ‘‘ پیش کروں؟ اول تو تم نے پڑھنا نہیں ، دوم یہ کہ تم نے سمجھنا نہیں کہ دلوں دماغوں پر مہریں ثبت ہو چکیں لیکن پھر بھی میں ’’ڈھیٹ ابن ڈھیٹ، ابن ڈھیٹ‘‘ تھوڑی سی کوشش ضرور کروں گا کہ شاید … شاید…شاید قبولیت کی کوئی گھڑی ہو اور نہ بھی ہو تو کم از کم آئندہ نسلیں تو جان سکیں گی کہ ان کے تمام ایلڈرز فارغ اور جاہل نہیں تھے کہ میں تو اکثر بولتا اور لکھتا بھی صرف ان کے لئے ہوں جو ابھی نہ سن سکتے ہیں، نہ پڑھ سکتے ہیں کہ ان کی سماعتیں اوربصارتیں ابھی بچپن کے مرحلہ میں ہیں۔

میں نہیں جانتا کہ جہالت کہاں سے شروع ہو کر کہاں ختم ہوتی ہے سو اس کی بھی خبر نہیں کہ اس کا جواب کہاں سے شروع کرکے کہاں ختم کرنا ہے بہرحال. . . . بہت دور کی بات نہیں جب دنیا کے بیشتر دروازے یہودیوں پر بند کردیئے گئے اور شاید یہی وہ لمحہ تھا جب ان میں سے ایک اقلیت نے پوری دنیا سے انتقام لینے کا فیصلہ کیا لیکن شمشیر کے نہیں تدبیر کے بل بوتے پر وہی ”تدبیر“ جس کی طرف اقبالؒ یہ کہتے ہوئے اشارہ کرتاہے:

دین کافر ”فکر و تدبیر“ جہاد

دین ملاّ فی سبیل اللہ فساد

ایک بار پھر عرض ہے کہ ان کا ”انتقام“ سمجھنے کے لئے یہ کتابچہ پڑھنا ضروری ہوگا:

“Protocols of the meetings of the elders of Zion”

اسے پڑھنے سے بہت سا بخار بھی اتر جائے گا اور دماغ سے بہت قسم کے جالے بھی اتر جائیں گے۔ یہ خفیہ دستاویز پہلی بار دنیاکے سامنے پروفیسر نائیلس (Nilus)کی وجہ سے آئی جو روس کے آرتھوڈوکس چرچ کے پادری تھے۔ انہوں نے پہلی بار روسی زبان میں اس کا ترجمہ 1905 میں کیا۔ بقول پروفیسر نائیلس کہ ”پروٹوکولز“ مختلف میٹنگز کے منٹس (minutes) نہیں بلکہ ان کے بارے میں ایک رپورٹ ہے۔ بالشویک انقلاب پر نائیلس کو ترجمہ کے جرم میں نہ صرف گرفتار اور قید کیا گیا بلکہ اسے ٹارچر بھی کیا گیا۔ ”پروٹوکولز“ کے پہلے انگریزی مترجم کا نام تھا Victor Marsden جو برطانوی ہونے کے ساتھ ساتھ ”مارننگ پوسٹ“ کا نمائندہ بھی تھا۔ وہ کئی سال روس میں تعینات رہا اور اس کی بیوی بھی روسی تھی۔ بالشویک انقلاب کے بعد یہ کتابچہ روسی مہاجرین کے ذریعے نارتھ امریکہ اور جرمنی پہنچا۔

”پروٹوکولز“ بنیادی طور پر دنیا پہ قبضہ کا بلیوپرنٹ تھا اور ہے کہ پہلے مرحلہ میں عیسائیت اور دوسرے مرحلہ میں مسلمانوں کو کیسے مغلوب کرنا ہے۔ دنیا کے تقریباً ہر بڑے حادثہ، سانحہ، واقعہ، جنگ، Slumps، انقلاب، Cost of living میں اضافہ اور unrest کے پیچھے یہی شیطانی منصوبہ کارفرما ہے اور آج تک کامیابی سے جاری و ساری ہے۔

ہنری فورڈ کا ایک انٹرویو جو 17فروری 1921 میں “New York World” کے اندر شائع ہوا اس آٹوموبیل جینئس نے ”پروٹوکول“ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا:

The only statement I care to make about the protocols is that they fit in with what is going on. They are sixteen years old and they have fitted the world situation up to this time.|

مصیبت یہ ہے کہ مسلمانوں کے اصل حریف سائبیریا سے زیادہ ٹھنڈے اور سمندروں سے زیادہ گہرے ہیں جبکہ یہ کوئلے کی طرح گرم (جو فوراً راکھ ہوجاتا ہے) ہیں اور انہوں نے نہانے والے ٹب کو ہی سمندر سمجھا ہوا ہے۔ (جاری ہے)

اپنا تبصرہ بھیجیں