میرے یہ غم خوار دوست!

مجھے کچھ قارئین کے فون آئے ہیں کہ جناب آپ بھی ’’پریشان کن‘‘ قسم کے کالم لکھنا شروع ہوگئے ہیں، آپ تو اس رویے کی الٹ سمت چلنے کے عادی ہیں۔ ان کااشارہ میرے گزشتہ دو تین کالموں کی طرف تھا جن میں میں نے اتنہاپسند سیاسی رویوں سے قوم کو خبردار کرنے کی کوشش کی تھی۔ بات تو میرے ان دوستوں کی ٹھیک ہے لیکن اگر کچھ لوگ چاروں طرف پٹرول چھڑک کر ماچس ہاتھ میں پکڑے نظر آئیں تو پھر قلم کا رُخ موڑنا ہی پڑتا ہے۔

تاہم بات میرے ان دوستوں کی بات بھی ٹھیک ہے، اس موضوع پر جببہت سے دوسرے لکھنے والے موجود ہیں اور وہ مجھ سے بہتر انداز میں صورتحال واضح کر سکتے ہیں، تو وہ اپنا فرض ادا کرتے رہیں اور میں اپنا فرض ادا کروں۔ دراصل میں نے خود کئی دنوں سے بہت مشکل سے قلم کو روک کر رکھا ہوا تھا کہ ایک تو ملکی صورتحال بہت گھمبیر ہے اور دوسرے جو موضوع مجھے گدگدی کر رہا تھا وہ اپنے طور پر بہت نازک تھا۔ معاملہ کچھ یوں ہے کہ میرے ایک عزیز دوست عمرہ کرنے گئے ہوئے ہیں بلکہ ممکن ہے وہ اب تک واپس بھی آگئے ہوں مگر وہ فیس بک پر ابھی تک احرام باندھے موجود ہیں۔ کہیں سجدے میں گرے ہوئے ہیں، کہیں حجر اسود کو بوسہ دیتے دکھائی دیتے ہیں، کہیں کسی مقدس مقام کے سامنے انتہائی خضوع و خشوع کے عالم میں کھڑے ہیں، ممکن ہے اس موقع پر انہوں نے گریہ بھی کیا ہو، مگر فوٹو گرافر ان کے آنسو گرفت میں لانے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔ میرے اس دوست کو مجھ سے اس قدر محبت ہے کہ مجھے میسج کرکے بتاتے رہتے ہیں کہ آج فلاں مقام پر تمہارے لیے رو رو کے دعا کی اور کبھی فلاں مقام پر تمہارے لیے گریہ زاری کی۔ ظاہر ہے ان تمام حوالوں سے مقاماتِ مقدسہ سے ان کی والہانہ عقیدت اظہر من الشمس ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ اس گنہگار کی جتنی فکران کو ہے،لگتا ہے اتنی فکر انہیں شاید اپنے حوالے سے بھی نہیں ہے۔

ظاہر ہے ان دنوں ایسے مخلص لوگ کم یاب نہیں نایاب ہیں جنہیں خود سے زیادہ دوسروں کی عاقیت عزیز ہوتی ہے، رمضان کا مقدس مہینہ ابھی ابھی گزرا ہے۔ اس مبارک مہینے میں تو مجھے ایسے ایسے دوست بھی ملے کہ میں ان کی دوستی پر اللہ کاجتنا شکر بھی ادا کروں وہ کم ہے۔ ان میں سے کچھ مجھے آدھی رات کو فون کرتے اور بتاتے تھے کہ انہوں نے ابھی تہجد پڑھنے کے بعد تمہارے لیے اللہ کے حضور رو رو کر دعا کی ہے۔کچھ دوستوں کا فون سحری سے ذرا قبل آتا تھا اور پوچھتے تھے جاگ رہے ہونا۔ سحری کا وقت قریب ہے کہیں سوتے نہ رہ جانا۔ ان کی ایک دور اندیشی کا مظہر یہ امر بھی ہے کہ انہوں نے کبھی مجھے افطاری کے وقت فون نہیں کیا اور نہ مجھے یہ زحمت دی کہ میں افطاری ان کے ساتھ کروں۔ مجھے ان دوستوں کے اخلاص پر تو کیا شبہ ہونا ہے میں تو تہہِ دل سے ان کی محبتوں کا قائل ہوں، البتہ ایک بات مجھے کبھی سمجھ نہیں آئی۔ ان دین دار دوستوں میں سے اگر کسی کے ساتھ دن کو ملاقات ہوتی تو وہ خلافِ معمول اپنا منہ میرے منہ کے بالکل قریب لا کر بات کرتے، میں لاکھ اپنا منہ ادھر ادھر کرتا مگر گھوم پھر کر ان کا منہ پھر میرے منہ کے قریب آ جاتا، جس کی بو کچھ زیادہ اچھی نہ ہوتی۔ مجھے اپنا چہرہ ادھر ادھر کرتے دیکھ کر باقاعدہ کہتے ’’تمہیں میرے منہ کی بو اچھی نہیں لگ رہی نا۔ مگر یاد رکھو اللہ کو روزے دار کی یہ بو بہت پسند ہے‘‘۔ اس کے بعد وہ مجھے اپنا منہ سونگھانے کو کہتے اور پھر برا سا منہ بنا کر کہتے ’’پرے کرو اپنا منہ، سگریٹ کی بو آ رہی ہے‘‘۔ میں انہیں بتاتا کہ یہ موا سگریٹ چیز ہی ایسی ہے کہ سحری کے وقت بھی پیا ہو تو افطاری تک اس کی بو نہیں جاتی۔

اللہ مجھے معاف کرے میں کیا موضوع لے کر بیٹھ گیا، دراصل اپنے تین چار سنجیدہ کالموں کا کفارہ بھی تو ادا کرنا تھا۔ میرے دور دراز کے ایک ماموں ہیں، وہ کوئی بات شروع کرتے ہیں تو اسےطویل سے طویل تر کرتے چلے جاتے ہیں اور یہ بات بھی انتہائی بے سروپا ہوتی ہے جب میں تنگ آنے لگتا ہوں تو وہ فرماتے ہیں کہ شاید میں تمہیں اپنی بات سمجھانے میں کامیاب نہیں ہوسکا اور اس کے بعد وہ دوبارہ اسی نقطے سے اپنی بات کا آغاز کرتے ہیں۔جو ان کا کلیدی نقطہ تھا۔ آج میں اپنے اس دور دراز کے ماموں کی تقلید کرتے ہوئے دوبارہ اپنے سنجیدہ کالموں کی طرف آکر بات ختم کرتا ہوں کہ میں نے ملک میں جارحانہ رویوں اور عدم برداشت کے حوالے سے خانہ جنگی کی طرف جو اشارے کئے تھے وہ صورتحال دن بدن زور پکڑ رہی ہے،ہم سب اسے ڈیفیوز کرنے کے لیے اپنا اپنا کردار ادا کریں اور میرے آج کے کالم کی طرح ملک میں خوشدلی کی فضا پیداکرنے کی کوشش کرتے رہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں