آج ہفتہ ہے ؟

آج، جب میں یہ سطریں ضبطِ تحریر میں لا رہا ہوں، ہفتہ کا روز ہے اور اتفاق ہے کہ میں رات کو سویا اور آج صبح ہی زندہ سلامت اٹھا، دانت صاف کیے اور محض عادتاً غسل کیا اور وہ سب کچھ ہی جو ہم سب ہر روز صبح کرتے ہیں مگر اس کا ذکر بدتہذیبی کی ذیل میں آتا ہے، اس کے بعد اخبارات کے پلندے پر ایک نظر ڈالی سب کی سرخیاں ایک جیسی تھیں، پھر کالموں پر نظر دورائی، ان میں سے بیشتر ان سرخیوں کی تشریح و تفسیر پر مشتمل تھے بعدازاں ناشتہ کیا، کپڑے چینج کیے ،شہ پارہ کو پیار کہا اہلخانہ کو خدا حافظ کیا اور دفتر کے لیے روانہ ہو گیا۔ میں پہلے گاڑی کی پچھلی نشست پر بیٹھا کرتا تھا مگر اب کچھ عرصے سے ڈرائیور کے برابر والی نشست پر بیٹھتا ہوں یہاں سے سامنے کے سارے مناظر زیادہ بہتر طور پر نظر آتے ہیں۔ آج ہفتے کی وجہ سے سڑک پر رش کم تھا مگر اتنا بھی کم نہیں کہ سینکڑوں گاڑیاں آج بھی بہرحال میرے آگے اور پیچھے چلی آ رہی تھیں۔ یہ میرا پروٹوکول نہیں تھا بلکہ ان میں سے کچھ لوگ ہر قسم کی ’’دہاڑی ‘‘ لگانے نکلے ہوئے تھے، مسلم ٹائون کے موڑ کی گرین بیلٹ نشئی نوجوانوں سے بھری ہوئی تھی اگر کوئی کاروہاں رُکتی تو ان میں سے جو اپنی جگہ سے اُٹھ سکنے کے قابل ہوتا وہ کار کے قریب آتا اور ہکلاتا ہوئی زبان میں بھیک مانگتا ۔میں نے شادمان کے قریب پہنچ کر ڈرائیور کو کار دائیں جانب موڑنے کے لیے کہا تو میں نے دیکھا کہ پیچھے آنے والی سینکڑوں گاڑیاں بھی دائیں جانب ٹرن لے رہی تھیں اور ان کے آگے بھی کاریں ہی کاریں تھیں اس کے بعد میری گاڑی جس جانب بھی گئی سینکڑوں گاڑیاں اسی طرح آگے اور پیچھے نظر آئیں میں سمجھا شاید شہر خالی ہو رہا ہے مگر شہر خالی نہیں ہو رہا تھا یہ روٹین کے مناظر تھے اب شہر میں کار نظر آتی ہے یا بے کار لوگ جو فٹ پاتھوں پر مزدوری کے انتظار میں بیٹھے ہوتے ہیں کہ ضرورت مند انہیں کام کاج کے لیے لے جائیں اور یوں وہ شام کو اپنے بچوں کے لیے روزی روٹی کا بندوبست کرسکیں!

میں نے ان مناظر سے اکتا کر اپنا موبائل فون آن کیا جس میں چھ سو کے قریب میسجز تھے اور ان میسجز میں سے سو پچاس دوستوں ہی سے میری راہ ورسم تھی زیادہ تر پوسٹیں گڈمارننگ، صبح بخیر وغیرہ کے پیغامات پر مشتمل تھیں کچھ تبلیغی نوعیت کی تھیں اور کچھ بیک وقت تبلیغی اور واہیات ویڈیوز پر مشتمل تھیں، میری دلچسپی محض تبلیغی پوسٹ سے تھی مگر ظاہر ہے ان ویڈیوز پر بھی نظر پڑ جاتی تھی میں بار بار یہ کلپس دیکھتا اور سوچتا کہ ہمارا معاشرہ کس طرف جا رہا ہے؟ میں نے اپنے ذہن کو جھٹکا دیا اور دوسری پوسٹ کی طرف متوجہ ہو گیا ان میں سیاسی طنز ومزاح سے بھرپور حکومتی کارناموں کا جی بھر کر مذاق اڑایا گیا تھا کچھ سیاسی لیڈروں پر الزامات پر مشتمل تھیں اور کچھ میں عمران خان کے ماضی اور حال کے متضاد بیانات کا خاکہ اڑایا گیا تھا سب سے زیادہ سیاسی اور غیر سیاسی پوسٹس مراد سعیدکے حوالےسے تھیں اور ظاہر ہے یہ ان کا حق بھی تھا کہ حکومت کی طرف سے کرائے گئے سروے میں تمام وزراء میں سے مراد سعیدکی کارکردگی نمبر ون تھی ۔دفتر پہنچتے ہی میں نے ایک بار پھر لباس تبدیل کیا اور ڈھیلے ڈھالے کپڑے پہن لیے کہ سوٹ پہن کر مجھ سے کالم نہیں لکھا جاتا اگر میں لکھوں تو مجھے خواہ مخواہ اپنی تحریر میں صاحب بہادری ہی نظر آنے لگتی ہے حالانکہ یہ صرف میرا وہم ہے میں نے اپنی میزپر نظر ڈالی تو کچھ دوستوں نے اپنی نئی کتابوں کا تحفہ مجھے بھیجا ہوا تھا میں نے ان کے صفحات پر ایک چبھتی سی نظر ڈالی اور پھر بک شیلف میں سجا دیں کہ وقت ملنے پر پڑھوں گا، میں نے کچھ اجنبیوں کو ملنے کا وقت دیا ہوا تھاجو کالم کے اختتام کے بعد کا تھا چنانچہ کچھ ہی دیر بعد ایک باریش صاحب میرے کمرے میں تشریف لائے سلام دعا کے بعد کہنے لگے قبلہ و کعبہ حضرت پیر سیدمظہر حسین شاہ اور مد ظلہ العالیٰ تشریف لائے ہیں، میں نے ان صاحب کی طرف دیکھا مگر وہ اکیلے تھے میں نے پوچھا آپ بزرگ ہیں، بولا نہیں میں تو ان کی جوتیوں کا صدقہ ہوں تب میں نے پوچھا تو پھر حضرت کہاں ہیں؟بولے باہر کھڑے ہیں آپ جاکر انہیں لے آئیں میں نے کہا افسوس میرے دفتر میں وہیل چیئر نہیں ہے میں اپنے ملازم کو آپ کے ساتھ بھیجتا ہوں آپ لوگ انہیں سہارا دے کر اندر لے آئیں اس پر بزرگ کی جوتیوں کے صدقے اس دنیا میں تشریف لانے و الے اجنبی نے کہا وہ صحت مند ہیں میں تو چاہ رہا تھا کہ یہ سعادت آپ کے حصے آئے اور انہیں پروٹوکول کے ساتھ اندر لے کر آئیں اس پر میں نے عجیب سی شکل بنائی اور کہا ’’اسے کہو آناہےتو آجائے ورنہ مجھے اور بھی کام ہیں ‘‘ یہ سن کر وہ پھرتی سے باہر گیا اور اس شخص کو اندر لے آیا۔یہ حضرت بھی بھکاری ٹائپ تھے، مجھ سے میرے دوستوں کے حوالے سے ایک ’’دینی کام‘‘ کے لیے تعاون کے خواہش گار تھے لاحول ولا قوۃ۔

اور آخر میں ایک اور صاحب ،اور اس طرح کے صاحبان سے ہفتے میں ایک دو بار ملاقات ضرور ہوتی ہے یعنی میرے بہت بڑے فین کے طور پر اپنا تعارف کراتے ہیں اور آخر میں جاتے جاتے دروازے کے قریب پہنچ کر رکتے ہیں او رپوچھتے ہیں چیف سیکرٹری صاحب سے آپ کے مراسم کیسے ہیں؟ میں نے سنا ہے نیک آدمی ہیں کسی دن مجھے اپنے ساتھ ان کے پاس لے جائیں مجھے ان سے کوئی کام نہیں ہے صرف ان کی زیارت مقصود ہے۔

آخر میں مرحوم و مغفور اسلم کولسری کا ایک نہایت خوبصورت شعر

کھل کے بیٹھو کہ ملنے آیا ہوں

میں کسی کام سے نہیں آیا

اپنا تبصرہ بھیجیں