بیرون ملک ہماری کوئی شاخ نہیں!

میرے خیال میں ہم اگر بیرونِ ملک مقیم سب پاکستانیوں کو جو بلااستثنیٰ’’اوورسیز پاکستانی ‘‘ کہتے ہیں تو یہ غلط ہے کیونکہ یورپ اور امریکہ کے پاسپورٹ ہولڈر ان ملکوں کی وفاداری کا حلف اٹھاتے ہیں اور اس حلف میں یہ عہد بھی ہوتا ہے کہ ان کے نئے وطن پر اگرحملہ ہو اور اس حملے میں خواہ ان کا ’’سابقہ‘‘ وطن بھی شامل ہو تووہ اس کے خلاف لڑیں گے چنانچہ میرے نزدیک جو پاکستانی، پاکستان کا پاسپورٹ گروی رکھ دیتا ہے اور بہت فخر سے اپنے امریکن یا یورپین پاسپورٹ ہولڈر ہونے پر فخر کرتا ہے میں اس طرزِ عمل کے حامل پاکستانیوں کو اوورسیز پاکستانی کی بجائے ’’تارکینِ وطن‘‘ قرار دینا حقیقت کے زیادہ قریب گردانتا ہوں البتہ جو پاکستانی خلیجی ملکوں میں روٹی، روزی کمانے گئے ہیں، پاکستانی پاسپورٹ ہولڈر ہیں اور ان کا سب کچھ پاکستان میں ہے ان کے لیے اوورسیز پاکستانی کا ٹائٹل مناسب ہے، تارکین وطنِ پاکستان میں اپنے عزیز و اقربا کو گاہے گاہے رقوم ارسال کرتے رہتے ہیں وہ یہ رقم ہر اس ملک میں بھیجیں گے جہاں ان کے والدین یا بہن بھائی رہتے ہوں آپ کو یہ سن کر شاید حیرت ہو کہ انڈیا ان تمام انڈینز کا پاسپورٹ کینسل کر دیتا ہے جو کسی اور ملک کے پاسپورٹ ہولڈر بن جاتے ہیں چنانچہ ایسے انڈینز نے جب انڈیا جانا ہو تو وہ ایک غیر ملکی کے طور پر جاتے ہیں اس کے باوجود وہ ہر ماہ بھاری رقوم انڈیا میں مقیم اپنے اعزاکو ارسال کرتے ہیں سو اس میں کسی کی حب الوطنی والا کوئی دخل نہیں انہیں ایسا بہرحال کرنا ہوتا ہے اس سے پاکستان کے زرِ مبادلہ میں اضافہ ہوتا ہے تاہم جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا ان کا بنیادی مقصد کچھ اور ہوتا ہے !

میری اس تحریر سے خدانخواستہ یہ نتیجہ اخذ نہ کیا جائے کہ میں تارکینِ وطن کو غدار کہہ رہا ہوں، غدار تو ہمیں قرار دیا جا رہا ہے جو ہر طرح کی صورتحال میں پاکستان چھوڑنا گوارا نہیں کرتے ہمارے ہاں جہاں بے شمار لوگ ’’تارکینِ وطن‘‘ کے گروہ میں شامل ہونا چاہتے ہیں اور غیر ملکی پاسپورٹ کے لیے سب کچھ کر گزرتے ہیں مگر آپ یقین کریں اس پاکستان میں لاکھوں لوگ ایسے بھی بستے ہیں جن کے لیے باہر جاکر بسنا بہت آسان تھا اور ان میں سے ایک میں بھی ہوںمگر انہیں اپنی زمین سے جدائی گوارا نہیں تھی اور ہاں خود مغربی ملکوں میں بھی ہزاروں پاکستانیوں نے آج تک پاکستانی پاسپورٹ سرنڈر کرنے اور وہاں کا پاسپورٹ لینا گوارا نہیں کیا وہ وہاں رہتے ہوئے بھی پاکستانی پاسپورٹ کو سینے سے لگائے ہوئے ہیں، اس کے علاوہ ایک بہت بڑی تعداد ایسے پاکستانیوں کی بھی ہے جو دس بارہ سال مغربی ملکوں میں گزارنے کے بعد واپس پاکستان آگئے کہ وہ اپنے بچوں کی پہچان پاکستانی قدروں کی حامل نسل کے طور پر دیکھنا چاہتے تھے۔

میر ی اس تحریر کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو پاکستان کی سیاست میں دلچسپی لینے کی بجائے مقامی سیاست میں بھرپور کردار ادا کرنا چاہئے ، ان سیاسی جماعتوں کو سپورٹ کریں جو پاکستان کے بارے میں سافٹ کارنر رکھتی ہیں انہیں وہاں کی کسی ایسی جماعت کی طرف سے بطور امیدوار انتخابات میں حصہ لینا چاہئے جو ان کے روشن مستقبل اور ان کے حالیہ وطن کو دنیا میں نیک نام کر سکتی ہوں، پاکستان کی سیاست سے دور رہیں کہ وہ نہیں جانتے اس کے سابق وطن کے مکین ان دنوں کس صورتحال سے دوچار ہیں یہ فیصلہ پاکستانیوں نے کرنا ہے کہ ان کی مشکلات کے ازالے اور دنیا میں پاکستان کی درخشندہ مثال بننے کے حوالے سے کون سی سیاسی جماعت کو اقتدار میں آنا چاہئے ان دنوں یورپ اور امریکہ میں تارکینِ وطن پاکستان کی ایک سیاسی جماعت کے حق میں مظاہر ے کر رہے ہیں، پاکستان میں پاکستانیوں کی ایک تعداد بھی اس سیاسی جماعت کے حق میں جلسے اور جلوس کر رہی ہے یہ حق صرف پاکستانیوں کا ہے جن کا سب کچھ دائو پر لگا ہوا ہو مگر ان کا نہیں جن کے لیے پاکستان میں کسی حکومت کا آنا یا جانا ان کے کسی نقصان کا باعث نہیں بنتا۔ ان سے درخواست ہے کہ وہ اپنے محبوب وطن کی زلفوں سے ضرور کھیلیں مگر پاکستان سے فلرٹ نہ کریں۔کوئی سازشی ذہن اگر اسے بھی امریکہ اور مغرب کی سازش قرار دے ڈالے تو ان پاکستانیوں کے دل پر کیا گزرے گی جو اگرچہ اپنی قومیت کو خیر باد کہہ چکے ہیں مگر وہ پاکستان کے دشمن تو نہیں ہیں اور نہ ہو سکتے ہیں اس حوالے سے میں ایک بات کہا کرتا ہوں کہ بیرون ملک کسی پاکستانی سیاسی جماعت کی شاخ نہیں ہونی چاہئے جبکہ بدقسمتی سے ہر جماعت نے وہاں اپنی شاخیں قائم کی ہوئی ہیں جس کے نتیجے میں وہاں بھی پاکستانیوں میں پھوٹ پڑ چکی ہے اور وہ ایک دوسرے سے دست وگریبان رہتے ہیں کاش ہماری ہر سیاسی جماعت اس بات کا اعلان کرے کہ بیرون ملک ہماری کوئی شاخ نہیں، براہ کرم نقالوں سے بچیں!

اور اب آخر میں یوم علی ؓ کے حوالے سے قمر رضا شہزاد کا ایک شعر ؎

علی ؓ کے چاہنے والوں کی صف میں رہتا ہوں

میں اپنے گھر میں بھی رہ کر نجف میں رہتا ہوں

اپنا تبصرہ بھیجیں