باذوق قارئین کے لئے ایک قیمتی تحفہ

ایک بار ہمدم دیرینہ انور مسعودنے دوران گفتگو مجھے مخاطب کیا اور کہا یار اس سال شاعر اور خربوزے بہت ہوئے ہیں مجھے سمجھ آ گئی کہ گزشتہ مہینے انور پرمشاعروں کی بوچھاڑ ہو ئی ہے اور صدر مشاعرہ ہونے کی وجہ سے کم سے کم ایک سو شاعروں کا کلام اسے سننا پڑا ہو گا اور معاملہ صرف سننے تک محدود ہو تو بندہ بڑی سے بڑی بلا سے مقابلہ بھی کر سکتا ہے مگر ایک چیز دنیا بھی ہوتی ہے جس کے لئے ہر شاعر صاحب صدر کو مخاطب کرتا ہے اور کہتا ہے یہ شعر آپ کی نذر کرتا ہوں۔نذرانہ پیرصاحبان اور شاعر صاحبان دونوں بخوشی قبول کرتے ہیں پیروں کو نذرانہ دعا کے لئے اور شاعروں کو داد کے لئے پیش کیا جاتا ہے۔ اللہ مجھے معاف کرے صدر صاحبان کو جن میں بوجہ عمراب میںبھی شامل ہوں کیسے کیسے شعر پر داد دینا پڑتی ہے اگر کوئی شعر بہت ہی برا بلکہ ناقابل برداشت ہو تو کبھی کبھار یہ بیوقوف شاعر صاحب صدر کو مخاطب کرکے کہتا ہے جناب صدر مجھے علم ہے مشاعرے کے سامعین بہت سخن شناس ہیں لیکن اس تہہ در تہہ شعر کے معانی تک رسائی صرف آپ ہی کو حاصل ہے کیونکہ میں آپ کی شاعری سے بے حد متاثر ہوں اور خصوصاً یہ شعر میں نے آپ کے رنگ میں کہنے کی کوشش کی ہے توجہ فرمائیں! توجہ کیا فرمانی ہے ایسے مداح کو موقع پر ہی گولی مارنے کو جی چاہتا ہے !

بات دراصل یہ ہے کہ الحمدللہ ہماری قوم جہاں کاروبارِ دنیا میں مشغول ہے دنیا وی طور پر ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش میں لگی رہتی ہے وہاں قوم کے یہ افراددنیا داری سے بے نیاز ہوتے ہیں اور ایک بڑی تعداد دنیا داری سے جڑی ہوئی بھی ہوتی ہے تاہم یہ دونوں طبقے اگر ان میں سے کوئی کاروباری بھی ہے، زیادہ سے زیادہ منافع اپنی شاعری سے کشید کرنے کی خواہش کرتا ہے ،منافع کیا ہے ؟سامعین کی داد !شاعری میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی دیوانہ وار کوشش اور خواہش۔ تاہم ان میں سے بہت سے ایسے خوش نصیب بھی ہیں کہ کسی سے آگے نکل سکیں یا نہ نکل سکیں شاعری میں تو ان کا نام بھی کہیں نہ آتا ہو لیکن اللہ نے انہیں یقین کی دولت سے نوازا ہوتا ہے وہ جانتے ہیں کہ اس دور میں اگر کوئی شاعری کر رہا ہے تو صرف وہ ہیں چنانچہ آج نہیں تو آنے والے کل میں ان کانام اردو کے عظیم شعرا کی صف میں ہو گا، یہ اتنے حوصلہ مند شاعر ہیں کہ گو اکثر مشاعروں میں بدذوق سامعین کے ہاتھوں بے عزت ہوتے ہیں مگر ہوٹ کرنے والوں کی آوازیں آپس میں اتنی گڈمڈ ہو جاتی ہیں کہ ان کے یقین کی دولت انہیں یہ بتاتی ہے کہ یہ شورو غل سامعین کی داد کے حوالے سے ہے۔ ان میں سے ایک شاعر کو میں جانتا ہوں سوری جانتا نہیں خوش نصیب ہوں کہ وہ مجھے اپنے مداحین میں شمار کرتے ہیں ایک دن انہوں نے مجھے ایک ڈھابے پر چائے کی دعوت دی، ان کے ہاتھ میں ایک مسودہ تھا اس دن ان کے چہرے کا رنگ بدلا ہوا تھا یعنی مزید سیاہی مائل ہو گیا تھا ،فرمانے لگے تم جانتے ہو اللہ تعالیٰ نے مجھے کتنی عزت سے نوازاہے بازار سے گزرتا ہوں تو لوگ میری طرف اشارہ کرکے ایک دوسرے کو بتاتے ہیں کہ وہ جا رہا ہے، اس سے پہلے بھی کچھ کہتے ہیں مگر بازار کے شوروغل کی وجہ سے وہ جملہ سمجھ نہیں آتا ،بہرحال آج تم سے ایک کام آن پڑاہے، تم نےمیرا نام آگے بڑھانے میں بہت کاوش کی ہے کتنے ہی کالم لکھے ہیں تم سے حسد کرنے والے آکر مجھے بتاتے ہیں کہ یہ شخص آپ کو اور آپ کی شاعری کو RIDICULEکرتا ہے مگر میں ان حاسدوں کو جانتا ہوں ،بہرحال تمہاری خدمات کے عوض میں تمہیں آج ایک قیمتی تحفہ دینا چاہتا ہوں۔

میں یہ سن کر گھبرا گیا اور دعا کی یا اللہ مجھے ان استادشاعرکے حوالے سے کسی امتحان میں نہ ڈالنا ،انہوں نے یہ SUSPENCEزیادہ دیر برقرار نہ رکھا اپنی بغل میں دابا مسودہ میرے سپرد کیا اور کہا تمہیں پتہ ہے کہ میں نے آج تک اپنا مجموعہ کسی ناشر کو اشاعت کے لئے نہیں دیا ،بڑی سفارشیں کرائی گئیں ،بہت بڑی بڑی رقم کی پیشکشیں ہوئیں مگر میرا ایک ہی جواب تھا نہیں !وہ لوگ شعر شناس نہیں تھے صرف میری شہرت کو بیچنا چاہتے تھے مگر میں شاعر ہوں اور یہ اعزاز کسی شاعر ہی کو دینا چاہتا ہوں ،یہ مسودہ سنبھالو اور اعلیٰ درجے کی طباعت کے ساتھ مارکیٹ میں لائو تم کروڑوں کمائو گے مگر میرے لئے رائلٹی کا ایک پیسہ بھی حرام ہے چنانچہ پیسوں کی بجائے روپوں میں جو دینا ہو چپکے سے دے دینا بس اب تم نے کچھ بولنا نہیں !

چنانچہ میں کچھ بولا نہیں وہاں سے اٹھا اور اپنے ایک محقق دوست کے پاس گیا ،مسودہ جو برس ہا برس کسی بوسیدہ الماری میں پڑے رہنے کی وجہ سے کٹا پھٹا تھا اور بوسیدہ کاغذسا لگتا تھا اللہ جانے کتنا پرانا ہے، میں نے محقق دوست سے کہا میرے چچا کو مخطوطے جمع کرنے کا شوق تھا بوقت وفات انہوں نے یہ محظوطہ مجھے اپنی وراثت کے طور پر دیا کہ وہ جانتے تھے کہ اسے مال و دولت کی نہیں ادبی نوادرات کی تمنا رہتی ہے سو یہ مخطوطہ اب تمہاری نذر کرتا ہوں، میرے خیال میں یہ چار سو برس پرانا ہے تم اس پر تحقیق کرو اور اہل ادب کو بتائو کہ عظیم شاعری کا یہ نادر نمونہ تمہارے ہاتھ لگا ہے اور پھر اس کا موازنہ میر اور غالب سے تو ہو گا ہی، تم بھی بطور محقق ادب میں لازوال مقام کے حامل قرار پائو گے !

یہ سن کر ازراہ ممنونیت میرے اس دوست کی آنکھوں میں آنسو آگئے اس نے اپنے بیٹے کو بلایا یہ نادر مسودہ اس کے ہاتھ میں دیا اور کہا ’’یہ سنبھالو اور ردی والا جب ردی لینے آئے تو یہ اسے باقی ردی کےساتھ نہ دینا اس کی قیمت الگ لگوانا یہ بہت اہم مسودہ ہے !

اپنا تبصرہ بھیجیں