عمران خان، چند یادیں!

رائٹر ز گلڈ کے دس مرلے کے دیئے ہوئے پلاٹ پر ہائوس بلڈنگ فنانس سے ایک لاکھ روپیہ، جس کی ادائیگی قسطوں میں کرنا تھی، پر ’’شاندار‘‘ عمارت تعمیر کرنے اور اس میں بیس سال قیام کرنے کے بعد ڈی ایچ اے (ای ایم ای سیکٹر) میں ساڑھے آٹھ لاکھ کا ایک کنال سات مرلے کے پلاٹ پر گھر تعمیر کیا۔ تو میری خوشی کا یہ عالم تھا کہ ہائوس وارمنگ پارٹی کا ایک سلسلہ شروع کر دیا۔ سب سے پہلے سامنے والے پلاٹ پر مشاعرہ ٹائپ تقریب منعقد کی جس میں لاہور کے نامی گرامی شعراء کے علاوہ اسلام آباد سے احمد فراز اور انور مسعود بطور خاص شریک ہوئے، صرف یہی نہیں صف اول کے ادیب احمد ندیم قاسمی، اشفاق احمد، مختار مسعود اور باقی نام جو حافظے سے نکل گئے تقریب کی رونق تھے۔ اس کے بعد ایک پارٹی عزیز و اقارب اور آخر میں سیاسی دوستوں کو بھی اپنے گھر مدعو کیا۔ اس میں صف اول اور صف دوم کے سیاست دان شریک تھے جس پر صف تین کے سیاست دانوں نے مدعو نہ کرنے پر مجھ سے شدید شکوہ کیا!

مگر میں ساری تفصیلات ’’گول‘‘ کر کے یہ بتانے چلا ہوں کہ عمران خان بھی اس محفل میں شریک تھے جو برادرم حفیظ اللہ نیازی کے ساتھ آئے تھے۔ مجھے یاد ہے میں نے مین گیٹ پر ان کا استقبال کیا تو انہوں نے گھر کے گرد و نواح پر ایک پر مسرت نظر ڈالتے ہوئے کہا ’’مبارک ہو، بہت اچھے علاقے میں آپ نے گھر بنایا، تاہم وہ زیادہ دیر میرے ہاں نہیں رکے، بیس پچیس منٹ گپ شپ میں شریک ہونے کے بعد وہ اجازت طلب ہوئے اور واپس تشریف لے گئے۔ یہ وہ دن تھے جب وہ مین اسٹریم کے سیاستدانوں میں شامل نہیں سمجھے جاتے تھے تاہم ان کے چاہنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا تھا، اس کے علاوہ ایک پارٹی میں ’’اہالیان ایم ایم ای‘‘ کو بھی مدعو کیا، وہ ازروئے محبت اتنی کثیر تعداد میں شریک محفل ہوئے کہ کھانا کم پڑ گیا عزیزم قمر راٹھوراس ایمر جنسی میں بازار سے ڈھیر سارا کھانا بنوا کر لے آئے اور یوں ’’بیستی‘‘ ہوتے ہوتے رہ گئی۔

یہ کالم عمران خان کے حوالے سے ہے باقی باتیں حاشیہ آرائی کے زمرے میں آتی ہیں۔ جیسا کہ سب دوست اور میرے قارئین بھی جانتے ہیں کہ میں جنم جنم کا آوارہ گرد ہوں، پچیس تیس ملکوں کی خاک چھان چکا ہوں، انڈیا اور پاکستان کا کوئی شہر میری ’’تشریف آوری‘‘ سے محروم نہیں رہا اور اس میں خوش کن بات یہ ہے کہ دنیا کےگردیہ پھیرے میں نے کانفرنسوں اور مشاعروں کے حوالے سے لگائے، سیر بھی کی، اعزاز یےبھی وصول کئے اور اس کے علاوہ بہت سے امور جنہیں آپ ’’الا بلا‘‘ کہہ سکتے ہیں، ان دوروں کا حاصل تھے۔ اسی حوالے سے ایک دفعہ لندن جانا ہوا تو میاں نواز شریف صاحب سے ملاقات کیلئے ان کی طرف چلا گیا۔ پتہ چلا کہ اندر کوئی بہت اہم میٹنگ ہو رہی ہے۔ میں واپس جانے ہی کو تھا کہ ایک صاحب نے آ کر کہا میاں صاحب آپ کو یاد کر رہے ہیں، انہوں نے غالباً میرے نام کی چٹ اندر بھجوائی تھی۔ بہرحال میں کمرے میں داخل ہوا تو پارٹی کی پوری قیادت اندر موجود تھی۔ میاں صاحب بے پناہ محبت کے آدمی ہیں، غرور ان کے قریب سے بھی نہیں گزرا، عجز و انکساراتنا کہ مقابل شرمندگی سی محسوس کرنے لگتا ہے۔ چوہدری نثار بھی شامل اجلاس تھے۔ میرے لئے یہ بات بہت اعزاز کی ہونے کے علاوہ حیران کن بھی تھی کہ میاں صاحب نے مجھے مخاطب کیا اور کہا ہم کچھ اہم امور پر مشاورت کر رہے ہیں، میری خواہش ہے کہ آپ بھی اس میں شریک ہوں۔ میں اپنے کالم میں سیاسی ’’چُنجیں‘‘ تو مار سکتا ہوں مگر سنجیدہ امور سے میرا تعلق اتنا ہی ہے جتنا چوہدری پرویز الٰہی کا شاعری سے ہے چنانچہ میاں صاحب کی طرف سے ’’دعوت خطاب‘‘ کے باوجود میں خاموشی سے حاضرین کی گفتگو سنتا رہا۔ کچھ دیر بعد میں نے سوچا کہ یوں ’’گھگھو‘‘ بن کر بیٹھنا اچھا نہیں لگتا، چنانچہ میں نے حوصلہ کر کے عرض کی کہ عمران خان ان دنوں خاصے مقبول ہو رہے ہیں۔ میرے خیال میں ان کے ساتھ بھی سیاسی علیک سلیک ہونی چاہئے۔ مجھے حیرت ہوئی جب سب حاضرین میری اس تجویز پر چونکے، شاید وہ میری آمد سے پہلے اسی تجویز پر غور کر رہے تھے۔ میاں صاحب نے کہا یہ بہت اچھی تجویز ہے، یوں کرتے ہیں کہ یہاں بیٹھنے کی بجائے نیچے ایک کافی ہائوس ہے وہاں تفصیل سے اس کا جائزہ لیتے ہیں۔

چنانچہ ہم سب نیچے واقع کافی ہائوس میں آ کر بیٹھ گئے اور وہاں کافی دیر اس موضوع پر گفتگو کے بعد طے پایا کہ اس کیلئے کوئی راستہ نکالتے ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ یہ سب سے عہد لیا گیا کہ اس تجویز کی تکمیل سے پہلے ہم میں سے کوئی اسے ’’لیک‘‘ نہیں کرے گا۔ سچی بات پوچھیں تو در حقیقت یہ عہد صرف مجھ سے لینا مقصود تھا کہ کہیں یہ ’’بڑبولا‘‘ وقت سے پہلے ہی ’’پھڑیں‘‘ مارنی شروع نہ کر دے، ورنہ باقی سب شرکاء تو ’’سیزنڈ‘‘ سیاست دان تھے۔ ان سے اس بے صبری کی توقع ہی نہیں کی جا سکتی تھی۔ بہرحال یہ طے پا گیا اور مجھے بعد میں پتہ چلا کہ عمران خان اس کے عوض آنے والے انتخابات میں اپنے حجم سے زیادہ نشستیں طلب کر رہے تھے اور یوں یہ بیل منڈے نہ چڑھ سکی۔

اور آپ اندازہ لگائیں کہ 2018 کے انتخابات سے پہلے فوج کے چند جرنیلوں کی معاونت سے اسلام آباد کے ڈی چوک میں تمام لیڈروں اور تمام اداروں کو روزانہ کی بنیاد پر جو دھمکیاں دی جاتی تھیں، ایک دن میں نے ٹی وی پر خان صاحب کو پورے جاہ و جلال کے ساتھ یہ کہتے سنا ’’عطا الحق قاسمی میں تمہیں نہیں چھوڑوں گا‘‘ تب میںنے دل ہی دل میں خود کو بہت کوسا کہ تو خواہ مخواہ خود کو ایک حقیر پرتقصیر انسان سمجھتا ہے، تو تو بہت اہم ہے۔ تھنک یو، خان صاحب!

اپنا تبصرہ بھیجیں