منیر نیازی کی یاد میں

میرے جیسا بندہ جو کہ زیادہ ’’سوشل‘‘ نہیں، ہنگاموں، پارٹیوں سے جان چھڑاتاہے،اک خوب صورت ’’کاز‘‘ کے لئے کامیاب ’’لابیئنگ(LOBBYING) سے فارغ ہو کر اللّٰہ کا شکر ادا کرتا اور اس مہم میں تعاون پر ہر شخص کا شکریہ ادا کرتا ہے کیونکہ جو انسانوں کا شکریہ ادا نہیں کرسکتا وہ رب کا شکربھی ادا نہیں کرسکتا۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ میں سڑکوں، اوورہیڈز، انڈر پاسز، چوراہوں کو کچھ ٹٹ پونجیوں کے ناموں سے منسوب دیکھ کر بہت کڑھتا تھا۔ منیر نیازی جیسے انوکھے اور لازوال شاعر کی وفات کے بعد میں منتظر رہا کہ کوئی شے تو پیر منیر نیازی کے نام سے منسوب ہو، لیکن نہیں۔ پھر تنگ آمدبجنگ آمد، میںنے لابیئنگ کا فیصلہ کرلیا۔ میرا پہلا نشانہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار تھے۔ شکریہ عثمان بزدار کہ آپ نے وعدہ کیا ہی نہیں، نبھا بھی دیا۔ دوسرا ہدف وزیراعظم عمران خان تھے جنہیں باقاعدہ بریف کیا کہ اردو شاعری میں منیر نیازی جیسا نہ کوئی ہے نہ ہوگا۔ میری تیسری ’’لاٹری‘‘ متعلقہ سیکرٹری، باکمال بیورو کریٹ، میرے شہرلائل پور کے محسن اور بھائیوں جیسے نور الامین مینگل تھے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ کل ایک تقریب میں عثمان بزدار ملے اور گلے ملتے ہی یہ خوشخبری سنائی کہ منیر نیازی صاحب کی برسی پر اک اہم ترین اوورہیڈ برج کو منیر نیازی کے نام سے منسوب کیا جا رہا ہے۔

پیر منیر میری زندگی کے ان چند لوگوں میں سے ہیں جن سے میں نے بہت محبت کی اور مجھے بھی ان کی بے پایاں شفقت حاصل رہی۔ میں نے سرور سکھیرا صاحب کی قیادت میںنکلنے والے تاریخ ساز ماہنامہ ’’دھنک‘‘ سے اپنے کیریئر کا آغا زکیا جو منیر کےساتھ میری محبت کا آغاز ثابت ہوا کیونکہ سرور بھائی نے منیر صاحب سے کالم لکھوانا شروع کردیا اور یوں ’’دھنک‘‘ کے دفتر میں منیر صاحب کی آمد و رفت شروع ہوگئی اور تعارف نے معرفت کی منزلیں طے کر کرنا شروع کر دیں۔ ایک بار منیر کراچی گئے تو میں نے ان کے میزبان کا فون نمبر لیتے ہوئے یہ وعدہ بھی لے لیا کہ وہ مقررہ تاریخ تک اپنا کالم بھی بھیج دیں گے جو ظاہر ہے بذریعہ خط ہی آنا تھا کہ وہ زمانہ خطوں کا زمانہ تھا۔ مقررہ تاریخ سے 3،4 دن پہلے میں نے ریمائنڈر کے لئے انہیں فون کیا اور سب سے پہلے حال پوچھا تو اپنے مخصوص لہجے میں بولے … ’’حسن! کراچی والوں نے اتنی محبت دی ہے کہ میں سوچ رہا ہوں لاہور والوں کو منیر نیازی سے محروم کرکے کراچی میں ہی رہ جائوں‘‘۔ منیر نیازی بارے یہ فیصلہ کرنا بہت مشکل ہے کہ وہ خود زیادہ خوبصورت تھے، ان کی شاعری زیادہ خوبصورت تھی یا ان کی گفتگو زیادہ سحر انگیز تھی۔ سرتاپا شاعر منیر نیازی کی یاد ہی خوشبو ہے۔ میری پہلی کتاب 1981ء میں منظر عام پر آئی، عنوان تھا ’’آدھی ملاقات‘‘ جس کا تیسرا ایڈیشن شعیب بن عزیز کے ادارہ ’’ترتیب پبلی کیشنز‘‘ نے شائع کیا۔ یہ دراصل ان خطوط کا مجموعہ تھا جو بیرون ملک سے لکھے گئے خطوط پر مشتمل تھا۔ جو میری پہلی اہلیہ سنبھالتی رہی۔ کسی ایک خط میں میں نے لکھا کہ اس سے بڑی ٹریجڈی کیا ہوسکتی ہے کہ مجھے وہ ملک اور شہر لاہور چھوڑنا پڑا جس میں منیر نیازی رہتا ہے۔ مجھ سے یہ نقصان مزید برداشت نہ ہوگا وغیرہ وغیرہ۔ خطوط کی اشاعت کے وقت بھی میں بیرون ملک ہی تھا۔ کسی نے ’’آدھی ملاقات‘‘ کے اس خط کا ذکر منیر صاحب سے کرد یا کہ حسن نثار نے عجب انداز میں آپ کو یاد کیا۔ منیر صاحب نے جانے کس کے ذمہ لگایا کہ ’’حسن جب بھی پاکستان آئے مجھے بتانا‘‘ چار چھ ماہ بعد میں واپس آیا تو ایک روز شام گئے اچانک کسی کو ساتھ لئے میرے گھر ماڈل ٹائون پہنچ گئے اور کہا ’’یہ کیسی محبت ہے کہ خطوں میں مجھے بھولتے نہیں اور یہاں آ کر ملتے نہیں، ملے بغیر ہی چلے جاتے ہو‘‘ رات گئے تک نشست رہی جس کا نشہ آج تک طاری ہے۔

اور یہ ان دنوں کا ذکر ہے جب ابرار بھٹی ماڈل ٹائون کلب کا صدر تھا تو مجھے خبردار کرتے کہ ’’کلب پہنچ جائو میں بھی آ رہا ہوں‘‘ ان دنوں میں ’’بیلی پور‘‘ رہتا اور کم کم ہی نکلتا تھا لیکن منیر صاحب کے پہنچنے سے پہلے پہنچ کر صدر محترم کے کمرے کا دروازہ کھول کر سامنے نظر رکھتا کہ جونہی منیر صاحب کی گاڑی پہنچے میں باہر جا کر خود انہیں ریسیو کروں۔ ابرار بھی ان سے بہت پیار کرتا اور ان کی آمد کے اہتمام میں کوئی کسر نہ چھوڑتا۔ لمبی نشست میں کوشش یہی ہوتی کہ ہم کم سے کم بولیں، ان کو زیادہ سے زیادہ سنیں۔ عجب اتفاق ہے کہ کیرئیر کے آغاز میں ان سے پے در پے بے شمار ملاقاتیں رہیں یا پھر ان کے رخصت ہونے سے پہلے ڈیڑھ دو سال ہم لگا تار ملتے رہے۔ درمیانی وقفہ تقریباً ضائع ہی گیا۔

منیر صاحب سے ایک جملہ منسوب ہے کہ ’’پاکستان نے تین خوبصورت لوگوں کو جنم دیا۔ ایک سنتوش کمار، دوسرا فضل محمود اور تیسرا منیر نیازی‘‘۔ میری خوش بختی کہ ان میں سے دو کی قربت حاصل رہی۔ سنتوش بھائی کے تو میں گھر کا فرد تھا کیونکہ ان کا سب سے چھوٹا بھائی منصور میرے عزیز ترین دوستوں میں شامل تھا اور ہے۔ منیر صاحب میری ’’ذاتی کمائی‘‘ تھے اور فضل محمود صاحب کو زندگی میں صرف ایک بار دیکھا جب وہ ’’جنگ‘‘ آفس کے باہر چھڑی کے سہارے کھڑے سپورٹس رپورٹر اور میرے دوست سپرا کی نیچے آمد کا انتظار کررہے تھے۔ مسلم ٹائون کی ایک سڑک سنتوش بھائی کے نام سے منسوب کرنے کی گزارش بھی کر رکھی ہے کہ وہ پاکستان فلم انڈسٹری کے پہلے سپر سٹار اور اس انڈسٹری کے بانیوں میں سے تھے۔ لوگ کہتے ’’وہ انسان نہیں مصوری کا شہکار ہیں‘‘۔

خوبصورت اور عالیشان لوگ کسی بھی معاشرہ کا اجتماعی ورثہ اور پہچان ہوتے ہیں. . . . . اور آئندہ نسلوں کی امانت بھی جس میں خیانت زیب نہیں دیتی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں